اسلام آباد کی نجی یونیورسٹی میں 80 سے زائد لڑکیوں کو ہراساں کرنے کا انکشاف

واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کریں کیونکہ امتحان میں ان کے نمبرز جنسی طور پر ہراساں کرنے والے فرد کے ہاتھ میں ہیں،موقع پر موجود استاد کا طلباء کو مشورہ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ مئی 16:13

اسلام آباد کی نجی یونیورسٹی میں 80 سے زائد لڑکیوں کو ہراساں کرنے کا انکشاف
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔30 مئی 2018ء) اسلام آباد کی نجی یونیورسٹی میں طالبات کو انٹرمیڈیٹ کے عملی امتحانات کے دوران وفاقی بورڈ کے مقرر کردہ امتحان لینے والے فرد کی جانب سے مبینہ طور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ہراسگی کا شکار ایک لڑکی نے ہمت کر کے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لگائی جس میں مذکورہ لڑکی نے انکشاف کیا کہ اسے امتحان دینے کے دوران ہراساں کیا گیا ۔

طالبہ نے بتایا کہ اسے 24 مئی کو ہونے والے امتحانات کے دوران ایگزامنر کی جانب سے 2 مرتبہ ہراساں کیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس امتحان کے دوران مذکورہ امتحان لینے والے فرد کی جانب سے بدکار ریمارکس کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا۔۔طالبہ کے مطابق یہ واقعات بحریہ کالج کی حیاتیات یا بیالوجی کی خاتون استاد کے سامنے پیش آئےجنہوں نے طالبات کو مشورہ دیا کہ وہ ان واقعات کا ذکر کسی سے نہ کریں کیونکہ امتحان میں ان کے نمبرز جنسی طور پر ہراساں کرنے والے فرد کے ہاتھ میں ہیں۔

(جاری ہے)

طالبہ کے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹ کی پیروی کرتے ہوئے کالج کی متعدد طالبات بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئیں اور اپنے ساتھ ہونے والے ایسے واقعات کے بارے میں بتایا جبکہ ایک اور طالبہ نے 18 عہد نامے تیار کیے جو انہوں نے بعدِ ازاں سوشل میڈیا ویب سائٹس پر شائع کیے۔کئی متاثرہ لڑکیوں نے دعویٰ کیا کہ امتحان لینے والے فرد کی جانب سے جنسی طور ہراساں ہونے والی طالبات کی تعداد 80 تک ہو سکتی ہے۔

جب کہ فیڈرل ڈائریکٹر آف ایجوکیشن میں اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز ہوگیا،۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعلقہ ٹیچر نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سخت مارکنگ کی وجہ سے مجھے اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

متعلقہ عنوان :