ایران ، شو بز سے وابستہ معروف شخصیات نے حسن روحانی کی دعوت افطار ٹھکرا دی

ملک میں مہنگائی اور ابتر معاشی حالات کے خلاف بہ طور احتجاج ایسا کرنے پر مجبور ہیں،فنکاروں کا موقف

بدھ مئی 22:36

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) ایران کی شو بز سے وابستہ معروف شخصیات نے اپنے صدر حسن روحانی کی دعوت افطار ٹھکرا دی، فنکاروں کا موقف ہے کہ ملک میں مہنگائی اور ابتر معاشی حالات کے خلاف بہ طور احتجاج ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران میں شوبز سے وابستہ شخصیات، فن کاروں اور دیگر مشاہیر نے صدر حسن روحانی کی جانب سے افطار ڈنر کی دعوت مسترد کردی ہے۔

فن کاروں کی جانب سے صدر روحانی کی جانب سے دی گئی افطاری میں شرکت سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ ملک میں مہنگائی اور ابتر معاشی حالات کے خلاف بہ طور احتجاج ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق صدر حسن روحانی کی طرف سیشوبز کی کئی اہم شخصیات کو افطار پارٹی میں مدعو کیا گیا تھا مگر ان میں سے آناھیتا ھمتی، مہناز افشار، پرویز پروستوئی، خداداد ، پروز ارجمند، احسان کرمی اور فلو نظری نے صدر کی دعوت افطار مسترد کردی۔

(جاری ہے)

روحانی کی دعوت افطار میں شرکت سے سب سے پہلے اعلانیہ انکار آناھیتا ہمتی نے انسٹا گرام پر دعوت نامہ پوسٹ کرنے سے کیا۔انہوں نے لکھا کہ ملک میں معاشی ابتری کا یہ عالم ہے کہ لوگوں کے پاس افطاری کو کچھ نہیں۔انہوں نے لکھا کہ میں ٹی وی چینل سے اس لیے دور ہوں کیونکہ چینل عوام کے حقیقی مسائل پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔انہوں نے صدر حسن روحانی کے نام اپنے کھلے خط میں ملک میں غربت میں مسلسل اضافے، احتجاجی تحریکوں کو طاقت سے کچلنے اور شوبز پرعاید کردہ آہنی پابندیوں پر سخت احتجاج کیا۔

ادھر صدر حسن روحانی کی دعوت افطار ٹھکرانے والی ایک دوسری فن کارہ مہناز افشار نے کہا کہ ملک میں بچوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کارکن اثینا دائمی کو بھی شریک کرانے کامطالبہ کیا اور کہا دائمی حکومت کے خلاف سازش اور قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے کی پاداش میں مسلسل سات سال سے جیلوں میں قید ہیں۔ جس ملک میں بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو قید وبند کی صعوبتوں میں ڈالا جاتا ہو وہاں صدر مملکت کو افطار پارٹیوں کے انعقاد کے بجائے قوم کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔