چین میں جاپانی فوجی وردی میں ملبوس شخص کی ویڈیو وائرل ہونے پر ملک بھر میں غم غصے کی لہر

31سالہ ریٹائرڈ فوجی نے عوامی غیض وغضب کے پیش نظر آن لائن معذرت کر لی

بدھ مئی 17:44

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) شہر کی ایک سڑک پر بارات کی قیادت کرنے والے شاہی جاپانی فوجی وردی میں ملبوس ایک شخص کی فوٹیج وائرل ہو گئی جس کی وجہ سے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر ڈور گئی ،27مئی کو لی گئی 10سیکنڈ کی ویڈیو میں ایک شخص کو ایک اپنے کندھے پر ایک رائفل اٹھائے ہوئے جسے زیادہ تر جنگ عظیم دوئم میں جاپانی حملہ آور استعمال کرتے تھے اور موٹر کاروں کے جلوس کے شمالی چین کی ٹیان جنگ میونسپلٹوی میں مارچ شروع کرنے سے قبل کیمروں کے آگے انگوٹھے کا نشان بناتے ہوئے ایک موٹر سائیکل پرسوار شخص کو دکھایا گیا ہے ،مشتعل شہریوں نے اسے ’’روحانی جاپانی ‘‘قرار دیا جس کا مطلب ایسا غیر جاپانی باشندہ ہے جو جاپانی فوجی ازم کی عبادت کرتا ہے اور خود اپنے ہی شہریوں کو ناراض کرتا ہے ۔

(جاری ہے)

ایک ’’روحانی جاپانی‘‘عام طو ر پر ایسی باتیں کرتا ہے جن میں جاپانی فوجی وردی میں ملبوس ہوتا ہے ،یادگاروں کے باہر سیلفاں اتارتا ہے اور جاپانی جارحیت(1931-45)کیخلاف مذمتی جنگ کے ساتھ وابستہ دیگر مقامات پر بھی سلفیاں بناتا ہے یا جاپان مخالف حملہ آور ہیروز کی تضحیک کرتا ہے دبائو کے باعث اس شخص نے اگلے ہی روز آن لائن معذرت کی ویڈیو جاری کی ،خود کو 36سالہ (ر)فوجی قرار دیتے ہوئے لائیو بن نے کہا کہ اس نے اس روز قبل ازیں ایک جاپان مخالف انٹرنیٹ ڈرامے میں جاپانی انتہا پسند کا کردار ادا کیا تھا اور دوست کی شادی کی تقریب میں شریک ہونے سے قبل اس نے اپنا لباس تبدیل نہیں کیا، اس نے اس بات کی تردید کی کہ وہ کوئی ’’روحانی جاپانی‘‘نہیں ہے اور اپنے کئے پر اظہار معذرت کیا۔

اس نے مزید کہا کہ وہ چین سے محبت کرتا ہے ۔

متعلقہ عنوان :