الیکشن کمیشن نےایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی تعیناتی کا نوٹس لےلیا

الیکشن کمیشن کی تعیناتیوں پرپابندی کے باجود تقرری کیسے ہوئی؟ چیف سیکرٹری پنجاب سے جواب طلب کرلیا۔ میڈیا رپورٹس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ مئی 17:49

الیکشن کمیشن نےایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی تعیناتی کا نوٹس لےلیا
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔30 مئی 2018ء) : الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی تعیناتی کا نوٹس لے لیا،،الیکشن کمیشن کی تعیناتیوں پرپابندی کے باجود تقرری کیسے ہوئی؟ الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری پنجاب سے جواب طلب کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کی درخواست پرعاصمہ حامد کی بطورایڈووکیٹ جنرل پنجاب تعیناتی کا نوٹس لے لیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد سعید سے جواب طلب کرلیا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے نئی تعیناتیوں اور بھرتیوں پرپابندی عائد کررکھی ہے۔۔الیکشن کمیشن کی نئی تقرریوں اور تبادلوں پرپابندی کے باجود عاصمہ حامد کی بطور اے جی پنجاب تقرری کیسے ہوئی؟ واضح رہے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جاتے جاتے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے عہدے پر عاصمہ حامد کو تعینات کردیا۔

(جاری ہے)

جس پرتحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر اورنگراں وزیراعلیٰ پنجاب کو گزشتہ روز خط ارسال کیا۔ خط پی ٹی آئی ترجمان فواد چوہدری کی جانب سے ارسال کیا گیا ۔ جس میں پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ عاصمہ حامد کی تعیناتی کو فوری کالعدم قرار دیا جائے۔ تحریک انصاف نے خط میں اظہار تشویش کرتے ہوئے قرار دیا کہ من پسند شخصیت کی قبل ازوقت انتخابات دھاندلی کی کوشش ہے۔

عاصمہ حامد کے تقرر کے وقت طریقہ کار پرتشویش ہے۔عاصمہ حامد کو وفاداری نبھانے کیلئے تعینات کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے مزید کہاکہ عاصمہ حامد کی قابلیت صرف اور صرف شریف فیملی سے قربت اور وفاداری ہے۔ عاصمہ حامد کے والد اور چچا شریف خاندان کے وفادار ہیں۔ یاد رہے الیکشن کمیشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کیلئے یکم اپریل سے پابندی عائد کی تھی کہ وفاقی یا صوبائی حکومتیں اپنے علاقوں میں تقرریاں یا بھرتیاں اور ترقیاتی کاموں کیلئے نئے فنڈز جاری نہیں کرسکتیں۔