سپریم کورٹ نی بھری عدالت میں ایک شخص کوقتل کرنے والی خاتوں کی عمرقید کی سزا کیلخلاف دائر اپیل خارج کر دی

بدھ مئی 18:06

سپریم کورٹ نی بھری عدالت میں ایک شخص کوقتل کرنے والی خاتوں کی عمرقید ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے نوسال قبل بھری عدالت میں ایک شخص کوقتل کرنے والی خاتوں کی جانب سے اپنی عمرقید کی سزا کیلخلاف دائر اپیل خارج کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مشرف بی بی نے خاتون ہونے کافائدہ اٹھایا اور پستول کمرہ عدالت میں لے جاکر سب کے سامنے قتل کاارتکاب کیا، اگرعدالتوں میں ہی قتل ہونا شروع ہوجائیں تو لوگ انصاف کے لئے کدھر جائیں گے۔

بدھ کو قائمقام چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف مشرف بی بی کی جانب سے دائر اپیل کی سماعت کی۔ یادرہے کہ مشرف بی بی نے 2009ء میں ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ کی عدالت میں سکندر حیات نامی شخص کو قتل کیا تھا، بعدازاں ٹرائل کورٹ نے مشرف بی بی کو سزائے موت سنائی جو ہائیکورٹ نے عمر قید میں تبدیل کردی تھی، سماعت کے دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نے درخواست گزارکے وکیل محمد اشرف کمبوہ ایڈووکیٹ سے استفسارکیاکہ وہ عدالت میں کیا موقف اپناناچاہتے ہیںکیونکہ آپ کی موکلہ نے کمرہ عدالت میں سب کے سامنے فائرنگ کرتے ہوئے قتل کیا تھا، کون نہیں جانتا کہ عدالت امن کی جگہ ہے ، ہمیں بتایا جائے کہ اگرعدالتوں میں ہی قتل ہونا شروع ہوجائیں تو انصاف کے لئے لوگ کدھر جائیں گے۔

(جاری ہے)

قائمقام چیف جسٹس نے مزید کہاکہ مشرف بی بی نے اپنے عورت ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور کمرہ عدالت میں پستول لے گئی جہاں اس نے بھری عدالت میں ایک شخص کوقتل کردیا۔ بعدازاں عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کافیصلہ برقرار رکھتے ہوئے مشرف بی بی کی درخواست خارج کردی۔