سپریم کورٹ نے محکمہ ایجوکیشن حیدرآباد میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس کے مرکزی ملزم ڈائریکٹر ایجوکیشن شمس الدین ڈل کی درخواست ضمانت خارج کردی

بدھ مئی 18:06

سپریم کورٹ نے محکمہ ایجوکیشن حیدرآباد میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے محکمہ ایجوکیشن حیدرآباد میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس کے مرکزی ملزم ڈائریکٹر ایجوکیشن شمس الدین ڈل کی ضمانت پر رہائی کیلئے دائر درخواست خارج کردی ہے اور احتساب عدالت کو ہدایت کی ہے کہ ملزم کاٹرائل22 جون تک مکمل کیا جائے۔ بدھ کوجسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے حیدرآباد محکمہ ایجوکیشن میں غیرقانونی بھرتیاں کرنے والے ڈائریکٹر کی جانب سے ضمانت کیلئے دائر درخواست کی سماعت کی، اس موقع پردرخواست گزارکے وکیل نعیم اقبال نے پیش ہوکرعدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ میرے موکل شمس الدین ڈل کب سے گرفتار ہیں لیکن ابھی تک ان کیخلاف صرف چار گواہاں کے بیانا ت ریکارڈ ہوسکے ہیں، اس لئے استدعا ہے کہ ان کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے پیش ہوکرعدالت کوآگاہ کیا کہ ملزم نے محکمہ میں غیر قانونی بھرتیا ں کی ہیں ، جس سے خزانے کو 11کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس سجادعلی شاہ کا کہناتھا کہ ملزم نے لوگوں کی تعلیمی قابلیت دیکھے بغیر ان کو بھرتی کیا اور 31 خالی اسامیوں پر 138 افراد کو بھرتی کیا گیا۔ بعدازاں عدالت نے ملزم کی جانب سے ضمانت کیلئے دائر درخواست خارج کرتے ہوئے احتساب عدالت کوہدایت کی کہ ملزم شمس الدین ڈل کا ٹرائل بائیس جون تک مکمل کیا جائے۔