فاٹا انضمام کیساتھ ملاکنڈ ڈویژن کی مخصوص حیثیت کے خاتمے کیخلاف احتجاجی تحریک کا اعلان

بدھ مئی 18:26

ملاکنڈ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) ملاکنڈ کے تاجروں اور منتخب ممبران سمیت سیاسی جماعتوں نے فاٹا انضمام کیساتھ ملاکنڈ ڈویژن کی مخصوص حیثیت کے خاتمے کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا ۔ فاٹااور پاٹا کی خیبر پختونخوامیں انضمام سے ملاکنڈ ڈویژن کی آزاد حیثیت کا خاتمہ کسی صورت قابل قبول نہیں ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی اور سینیٹروں نے آئینی ترمیمی بل کو بغیر پڑھے اور بغیر تحفظات کے پاس کرکے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سے نا انصافی اور غداری کی ہے ۔

پانچ سال تک ملاکنڈ ڈویژن میں کسی قسم کا ٹیکس لاگو نہیں کیا جاسکتا اور اس کے بعد بھی ٹیکس نافذ کرنے کی اجازت نہیں دینگے ۔ آرٹیکل 247 اور ملاکنڈ ڈویژن کی موجودہ آزاد حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کی بھر پور مذمت اور مخالفت کرتے ہیں ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار صوبائی اسمبلی میں پی پی پی کے سابق پارلیمانی لیڈر سید محمد علی شاہ باچہ ، متحدہ ٹریڈ یونین کے صدر حمید خان لالا ،جے یو آئی کے ضلعی سینئر نائب آمیر مولانا شمس الحق ،ٹریڈ یونین کے سینئر نائب صدر حاجی نواب خان اور درگئی ٹریڈ یونین کے نائب صدر سیف الله شہاب نے پریس کلب آفس میں فاٹا انضمام کے بعد ملاکنڈ ڈویژن کے موجودہ حیثیت خاتمے خلاف مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔

اس موقع پر تحصیل ناظم درگئی عبد الرشید بھٹو ، تحصیل نائب ناظم حاجی اعظم خان ،ممبر ضلع کونسل حاجی محمد طیب خان ، ممبر تحصیل کونسل رشید حسن ، ناظمین کونسل اتحاد کے صدر شمشیر علی خان ،سریر جمال خان ، تاج بادشاہ ، رحم بادشاہ ،پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے خورشید خان اورناظم نور رحمان بھی موجود تھے۔سابق ممبر صوبائی اسمبلی سید محمد علی شاہ باچہ نے کہا کہ اسمبلی میں ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے تمام سیاسی جماعتوں کے 24ممبران صوبائی اسمبلی نے ملاکنڈ کی موجودہ حیثیت چھیڑنے پر بھر پور تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا اور پاٹاکا خیبر پختونخواہ میں انضمام اور ترمیمی بل قومی اسمبلی او ر سینٹ سے پاس ہو کر صوبائی اسمبلی آیا تھا جہاں اس کو نا منظور کرنے کا کوئی چانس نہیں تھا لیکن پھر بھی ہم نے اس بھرپور تحفظات کا اظہار کیا اور چھ گھنٹے تفصیلی بحث کی گئی تھی جس کی وجہ سے مرکزی و صوبائی حکومت اس بات پر راضی ہو گئے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس وغیرہ کا دائرہ کارپانچ سال تک لاگونہیں کئے جائینگے جس میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے جبکہ ملاکنڈ ڈویژن کے لئے سالانہ 100ارب روپے دینے کے لئے بھی قرارداد منظور کرائی گئی اور ساتھ ہی ملاکنڈ ڈویژن میں پہلے سے رائج نظام عدل بھی قائم رہے گا ۔

انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے تمام ایم این ایز اور سینیٹرز نے ترمیمی بل پر کسی قسم کا اعتراض یا تحفظات کا اظہار نہیں کیا اور بغیر پڑھے اور سوچے سمجھے بل پاس کرانے کے لئے ووٹ دیا جو کہ ملاکنڈ کے عوام کی حق تلفی اور ان کے ساتھ نا انصافی ہے ۔سید محمد علی باچہ نے کہا کہ ماضی میں بھی ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس ، کسٹم اور پولیس ایکٹ نفاذ کی مخالفت کرکے احتجاجی تحریک چلائی تھی اور انشاء الله ڈویژن بھر کے تاجروں اور عوام کو ساتھ ملا کر ان کے حقوق کے لئے جدوجہد کرینگے ۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ ٹریڈ یونین کے صدر حمید خان لالا ، مولانا شمس الحق ، سیف الله شہاب اور دیگر نے کہا کہ فاٹا انضمام کے حوالہ سے فاٹا کے چند مشران کے علاوہ عوام کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا اور پاٹا انضمام سے ہمارے ملاکنڈ ڈویژن کے موجودہ مخصوص حیثیت کو تبدیل کیا گیا ہے جس پر ہمیں تحفظات ہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم ملاکنڈ ڈویژن کی موجودہ حیثیت تبدیل کرنے کے لئے کسی صورت تیار نہیں ہیں اور اس کے خلاف ڈویژن بھر پر تاجر برادری، سیاسی جماعتوں اور صحافیو ں کو ساتھ ملا کر احتجاجی تحریک شروع کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام اپنا تحریک خود چلا سکتے ہیں جبکہ ہم ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے حقوق کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے ۔