ارباب غلام رحیم آمریتی دور کی بیوہ ہیں، جس کی قسمت میں اب ماضی کو یاد کرنے اور رونے و سینہ کوبی کے علاوہ کچھ نہیں،عاجز دھامرہ

بدھ مئی 18:26

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے ترجمان سینیٹر عاجز دھامرہ نے کہا ہے کہ ارباب غلام رحیم آمریتی دور کی بیوہ ہیں، جس کی قسمت میں اب ماضی کو یاد کرنے اور رونے و سینہ کوبی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ارباب غلام رحیم کی جانب سے پی پی پی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی کی مذمت کرتے ہوئے عاجز دھامراہ نے کہا کہ سابق وزیراعلی ایک بدکلام شخص ہیں، جو اپنی فرسٹریشن کا اظہار ہرزہ سرائی کے ذریعے کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ارباب غلام رحیم کی اپنی ذاتی حیثیت ڈسٹرکٹ کائونسل کا رکن بننے کی بھی نہیں تھی، لیکن ایک آمر نے عوامی مینڈیٹ کو دبانے کے لیے اس جیسے تہذیب اور شائستگی سے نابلد شخص کو سندھ کا وزیراعلی بنا دیا تھا، تب سے وہ اپنے آپے میں نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

عاجز دھامراہ نے کہا کہ عوامی حمایت نہ ہونے کے باعث جمہوری ادوار میں ارباب غلام رحیم جیسے لوگوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، اور جیسے جیسے جمہوریت مستحکم ہوتی جارہی ہے، ان کو فرسٹریشن کے دوروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپنا تھوکا چاٹنے والوں کی فہرست بنائی جائے، تو ارباب غلام رحیم کا نام سرفہرست ہوگا۔ جن لوگوں نے ارباب غلام رحیم کو کالا کوا بول کر تضحیک کی، اقتدار کی خاطر اس نے ان ہی لوگوں کے آگے گھتنے ٹیک دیئے تھے۔ عاجز دھامراہ نے نشاندہی کرتے ہوئے مزید کہا کہ دورِ اقتدار میں ارباب غلام رحیم شریف برادران کے خلاف بہت گہنونے الزامات لگاتا تھا، لیکن وزارت اعلی ختم ہونے کے بعد ان ہی شریف برادران کی پارٹی میں شامل ہو گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آئندہ ہونے والے عام انتخابات صاف و شفاف ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی،، ارباب غلام رحیم اور اس جیسے مرغِ بادنما کی سیاست کا جنازہ نکال دے گی۔ عاجز دھامراہ نے متنبہ کیا کہ اگر فریال تالپور سمیت پی پی پی قیادت کے خلاف الزام تراشی اور بداخلاق زبان کا استعمال بند نہیں کیا تو جیالوں کا پرامن احتجاج کے بعد ارباب غلام رحیم کو سندھ میں پاوں رکھنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔