کسانوں کو ر یلیف فرا ہم کر نا حکو مت پنجاب کی اولین تر جیح ہے، عاطف رضا

بدھ مئی 18:46

راولپنڈی 30مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) ایڈ یشنل ڈ پٹی کمشنر(فنانس اینڈ پلا ننگ) را ئوعا طف رضا نے کہاہے کہ ہماری ملکی معیشت کا دارو مدار زرا عت پر ہے چنا نچہ پاکستان میں زرا عت کے شعبے کو سا ئنسی بنیا دوں پر استوار کر نا نا گز یر ہے تا کہ زر عی تحقیق میں جد ت لاکر اسے مز ید سو د مند بنایا جا سکے۔ایسے میںکسانوں کو ر یلیف فرا ہم کر نے کے ساتھ ساتھ ز ر عی شعبے کو جد ید خطوط پر استوار کر نا حکو مت پنجاب کی اولین تر جیح ہے جس کے لئے محکمہ ز را عت کی جا نب سے ر بیع و خر یف فصلوں کے لئے ٹا ر گٹ مقر ر کئے جا تے ہیں اور گا ئوں کی سطح پر کسانوں کو ٹر یننگ کے ذ ر یعے با ور کر وایا جا تاہے کہ زیا دہ پیدا وا ری صلا حیت کے بیج اور بیماریو ں کو کنٹرول کر نے کے سائنسی طر یقو ں کو استعمال میں لا کر وہ ا پنی پیداوار میں خا طر خواہ اضا فہ کر تے ہو ئے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پو رے ملک کی خو شحالی کا باعث بن سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ان خیا لات کا اظہارانہوں نے کا نفر نس روم کمشنر آفس میں منعقد ہ ڈو یژ نل ایگر ی کلچرٹا سک فو رس کمیٹی کے ما ہا نہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔اجلاس میں خالد محمود ڈ پٹی ڈا ئر یکٹر ایکسٹنشن،مجید اخترڈی او ایس بی، فرحان اسلم ڈی ایس پی کینٹ، انعام اللہ خان اسسٹنٹ دا ئر یکٹر ایکسٹنشن کلر سیداں، طا ہر محمود اے ڈی اے ٹیکسلا،بلقیس خانم ایگری کلچر آ فیسر، سعد یہ بانو اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرا عت، شا ہد صدیقی اے او را ولپنڈی، ڈا کٹر عتیق اسسٹنٹ ڈا ئر یکٹر لا ئیو سٹاک ، ضلعی و تحصیل افسران ز ارعت و ز رعی ادویا ت اور کسا نو ں کی بڑی تعداد بھی موجو دتھی۔

اس مو قع پر محکمہ زرا عت کی طر ف سے ما ہا نہ کا کر دگی کی تفصیلا ت سے آگاہ کر تے ہو ئے بتا یا گیا کہ را ولپنڈی ضلع میںاب تک65275کسا نوں کو کسا ن کا رڈ کے لئے ر جسٹر کیا جا چکا ہے جس کے ذریعے وہ سبسڈی سکیمیں استعما ل کر سکتے ہے۔ راولپنڈ ی میں اس و قت ز ر عی ادویات کی46 ر جسٹر ڈ ڈ یلرز مو جو د ہیں اور ز ر عی ادویا ت وا فر مقدار میں مو جو دہیں جبکہ فرٹیلائز ر کے 18 ر جسٹر ڈ ڈ یلر ز 17 سب ڈ یلرز مو جود ہیں۔سال 2017-18 میں اب تک 93فر ٹیلا ئز ر سیمپل لئے جا چکے ہیں جن میں سے 78 فٹ، 01ان فٹ جبکہ14 کے رز لٹ کا ابھی انتظا ر ہے۔ محکمہ زرا عت کی جا نب سے ای کر یڈ یٹ سکیم میں بلاسود قر ضہ کی فرا ہمی میں تا خیرکے حل کے لئے سفا رشات بھی پیش کی گئیں۔

متعلقہ عنوان :