شرح سود6.5فیصد ہونے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح

حصص کی خریداری کم ،0.25فیصداضافہ ہوتاتو اسٹاک مارکیٹ کافی اوپر جاچکی ہوتی نگران حکومتوں کے ادوار میں 14فیصد منافع ہوا،الیکشن سے امیدیں ہیں ،اسٹاک ماہرین

بدھ مئی 19:34

شرح سود6.5فیصد ہونے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) رواں مالی سال سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی کے باعث اسٹاک ایکسچینج کے 10فیصد تک گرنے کے نتیجے میں اربوں روپے کانقصان اٹھانے والے ہزاروں سرمایہ کاروں کی نظریں اب نگراں حکومت اور 25 جولائی 2018 کے الیکشن پرجمی ہوئی ہیں،اسٹاک تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ ماضی میں نگران حکومتوں کے ادوار میں سرمایہ کاروں کو14فیصد تک منافع حاصل ہوا ہے اور ان ادوار میں کبھی کوئی بڑی مندی رونما نہیں ہوئی،اسٹاک تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے سے غیر ملکی سرمایہ کار ابھرتی ہوئی اسٹاک مارکیٹس سے سرمایہ نکال رہے ہیں،اگرمرکزی بینک نے قرضوں کی سرکاری شرح سود میں 0.50 فیصد کے بجائے 0.25فیصد کااضافہ کیا ہوتا تو دوروز میں مارکیٹ کافی اوپر جاچکی ہوتی، سرکاری شرح سود غیر متوقع 6.50فیصد ہونے سے سرمایہ کاروں کااعتماد مجروح ہواہے اور مارکیٹ میں اسی وجہ سے فروخت کا دباو دکھائی دے رہاہے ،توقع ہے کہ 6.50فیصد شرح سود نے ڈسکاونٹ ہونے کے بعد نگراں حکومت شروع ہونے سے مارکیٹ میں روایتی تیزی آئے گی،تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ بیشتر سرمایہ کار خصوصا غیر ملکی سرمایہ کاروں نے حصص کی خریداری سے تقریبا ہاتھ کھینچ لیاہے،اب سرمایہ کاروں نے نگران حکومت کے دور میں جیبوں میں ہاتھ ڈالنے کا لائحہ عمل مرتب کرلیاہے ، تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ پچھلی 5نگران حکومتوں میں اسٹاک ایکسچینج میں کوئی بڑی مندی ریکارڈ نہیں کی گئی بلکہ ہرنگران حکومت کے مقررہ دنوں میں مثبت رحجان غالب رہاہے

(جاری ہے)