کماد کی جدید اقسام کو فروغ دے کر پیداوار میں اضافہ کیاجاسکتاہے، ماہرین جامعہ زراعت

بدھ مئی 18:57

فیصل آباد۔30 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) پاکستان گزشتہ 15 سالوں میں گنے کی پیداوار میں صرف اعشاریہ پانچ فیصد اور شوگر ریکوری میں دو فیصد اضافہ کر سکا ہے لہٰذا کماد کی جدید اقسام کو فروغ دے کر پیداوار میں اضافہ کیاجاسکتاہے۔ ماہرین زراعت نے بتایاکہ پاکستان کماد کی کاشت کے حوالے سے دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہونے کے باوجود فی ایکڑ پیداوار اور شوگر ریکوری میں بہت پیچھے ہے جس کیلئے خصوصی اقدامات کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ زرعی مداخل سستاکرنے اور تمام وسائل سے استفادہ کی ضرورت ہے۔

انہوںنے کہاکہ ایسے پروگرام صرف اسی صورت ہی سودمند ہیںجب ہم ان سے حاصل ہونیوالی قیمتی معلومات، تجربات اور نتائج کسانوں تک پہنچائیںکیونکہ اگر فارمرز کی پیداوار بڑھے گی تو اس سے سب کو فائدہ ہو گا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ فصلوں کی روایتی پیداور پر اکتفا کر لینا درست نہ ہے لہٰذا ہمیں مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر اپنی پیداوار میں اضافہ کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کوئی بھی ہو بری نہیں ہوتی تاہم اپنے وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی بھی ٹیکنالوجی استعمال کر لی جائے اس کا مقصد فی ایکڑ پیداوار کا زیادہ سے زیادہ حصول ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ اگر ہم ایک ایکڑ میں کماد کے 70ہزار پودے لگائیں تو پیداوار آٹھ سو من سے کم بالکل نہیں آئیگی۔

متعلقہ عنوان :