ماہرین زراعت کا کاشتکاروں کو مکئی کی قسم ساہیوال 2002 ، ایم ایم آر آئی ییلو ، پرل اور اگیتی 2002 کا بیج آئندہ فصل کیلئے رکھنے کا مشورہ

بدھ مئی 18:56

فیصل آباد۔30 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) ماہرین زراعت نے مکئی کی برداشت کے بعد کاشتکاروں کو چھلیاں اچھی طرح خشک کرنے کی ہدایت کی ہے اور ساہیوال 2002 ، ایم ایم آر آئی ییلو ، پرل اور اگیتی 2002 کا بیج آئندہ فصل کیلئے رکھنے کا بھی مشورہ دیاہے ۔انہوںنے کہاکہ جب مکئی کی فصل کٹائی کیلئے تیار ہو جائے تو چھلیاں پودوں سے نکال کر چبوتروں پر پتلی تہہ میں پھیلا دی جائیں اور بعد میں ان کو الٹتے پلٹتے بھی رہنا چاہیے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ چونکہ موسم گرماکے دوران درجہ حرارت زیادہ ہوتاہے اس لئے چھلیوں کے خشک ہونے میںزیادہ سے زیادہ 3دن لگ سکتے ہیں لہٰذا چھلیاں خشک کرنے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے خاص کروہ چھلیاں جن سے اگلی فصل کیلئے بیج رکھنا مقصود ہوتو ان کو سایہ دار جگہ میں خشک کرنا بہت بہتر ہوگا۔انہوںنے کہاکہ مکئی کی ترقی دادہ سنتھیٹک اقسام کااگلی فصل کیلئے بیج رکھنے کی غرض سے ایسے کھیتوں کا انتخاب کیاجائے جن کے ارد گرد تین تین ایکڑ تک مکئی کی کوئی دوسری قسم کاشت نہ کی گئی ہو ورنہ بیج خالص نہیں رہے گا ۔ انہوںنے کہاکہ ہائبرڈ بیج تیار کرنے والے کھیتوں سے صرف مادہ لائنوں سے ہی چھلیاں توڑی جائیں اور انہیں الگ خشک کرکے اگلی فصل کیلئے محفوظ کرلیاجائے ۔

متعلقہ عنوان :