وفاقی وزیر داخلہ توہین عدالت کیس میں لاہور ہائیکورٹ پیش ہو گئے، توہین عدالت کا تصور بھی نہیں کرسکتا نہ ہی ایسا جذبہ رکھتا ہوں،احسن اقبال

عدالت نے احسن اقبال سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 5 جون تک ملتوی کر دی

بدھ مئی 19:20

لاہور۔30 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ کے رو برو توہین عدالت کیس میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے پیش ہو کر کہا کہ میں توہین عدالت کا تصور بھی نہیں کرسکتا نہ ہی ایسا جذبہ رکھتا ہوں۔۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے بدھ کو احسن اقبال کے خلاف دائر توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

عدالتی حکم پر احسن اقبال اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، احسن اقبال کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت سے تحریری جواب داخل کرنے کی مہلت طلب کی اور کہا کہ احسن اقبال کا موقف سن لیا جائے، عدالت نے استفسارکیا کہ عدالت نے تحریری طور پر جواب طلب کیا تھا عدالتی حکم پر عمل کیوں نہیں کیا گیا، عدالت نے کہا کہ پہلے عدالتی حکم پر عمل کریں پھر انہیں سماعت کا موقع دیا جائے گا، احسن اقبال کے وکیل نے استدعا کی کہ احسن اقبال گذشتہ رات ہی عمرہ کی ادائیگی کے بعد واپس پہنچے ہیں ،انہیں سن لیا جائے،جس پر عدالت نے انہیں بولنے کی اجازت دی، احسن اقبال نے کہا کہ میں پچھلی سماعت پر نہ آنے پر معذرت خواہ ہوں،جنونی شخص کے حملے سے اللہ نے بچایا،جان بچنے پر اللہ کے گھر حاضری دینا چاہتا تھا، انہوں نے کہا کہ میں جمہوریت پر یقین رکھنے والا سیاسی ورکر ہوں، میرا یقین ہے کہ جمہوریت مضبوط عدلیہ کے بغیر نہیں پنپ سکتی، عدلیہ معتبر ادارہ ہے، اس کی توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتا،عدلیہ بڑا ادارہ ہے، چیف جسٹس سب کے چیف جسٹس ہیں،،میرا بیان صرف شکوہ تھا، میرے سیاسی مخالفین نے وائس چانسلر کی تعیناتی کے حوالے سے کردار کشی کی، میں نے آئینی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے بات کی۔

(جاری ہے)

درخواست گزار اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 68 کے تحت عدلیہ سے متعلق بات بھی نہیں کی جا سکتی، عدالت نے احسن اقبال سے استفسارکیا کہ کیا کبھی آئین کے آرٹیکل انیس کا مطالعہ کیا ہے، جس پر احسن اقبال نے بلند آواز سے کہا کہ میں قانون کا طالبعلم نہیں ہوں،،عدالت نے تنبہیہ کی کہ اپنی آواز کو آہستہ رکھیں،،عدالت نے احسن اقبال سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے سماعت پانچ جون تک ملتوی کر دی۔