وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، وزیراعظم ایکسپورٹ پیکیج میں تین سال توسیع کی منظوری

بدھ مئی 19:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزیراعظم ایکسپورٹ پیکیج میں تین سال توسیع کی منظوری دیدی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی نے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن (ڈی پی پی) میں محدود انسانی وسائل اور استعداد کار کے استحکام کے تناظر میں ایس آر او 1067 (1)/2017 پر عملدرآمد سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس میں ڈی پی پی کی جانب سے ملک کی دیگر بندرگاہوں پر ہینڈلنگ کے کام کی نگرانی کیلئے ضروری ٹیکنیکل استعداد کار کے ساتھ مطلوبہ انسانی وسائل میں اضافہ تک صرف کراچی بندرگاہ، زمینی سرحد پوسٹ ایٹ سوسٹ، چمن، طورخم، تفتان، واہگہ، پشاور اور کوئٹہ سے ایس آر او 1067 (1)/2017 کے تحت لسٹڈ مختلف اشیاء خوردونوش کی درآمد کا فیصلہ کیا گیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں ملکی برآمدات میں اضافہ کیلئے وزیراعظم ایکسپورٹ پیکیج کے اثرات پر غور کیا گیا اور کہا گیا کہ مراعاتی پیکیج سے مالی سال 2018ء میں برآمدات میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے جو کہ مسلسل مالی سال 2014ء سے کمی کا شکار تھیں۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ جولائی 2017-18ء کے دوران برآمدات میں گذشتہ سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے، برآمدات پر مبنی پیداوار میں مسابقت اور مراعاتی سرمایہ کاری کو بہتر بنانے اور پیداوار کر برقرار رکھنے کے تناظر میں ایکسپورٹ مراعاتی پیکیج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں کمرشل اور مینوفیکچررز برآمد کنندگان کیلئے ڈرا بیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز (ڈی ایل ٹی ایل) کو انہی قواعد و ضوابط پر آئندہ تین سال کیلئے توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

پیکیج میں موجودہ اور نئے نان ٹیکسٹائل شعبے شامل ہوں گے اور انہیں کم نرخوں پر ڈی ایل ٹی ایل کی اجازت ہو گی۔ اجلاس میں غیر معیاری سی این جی سلنڈرز/کٹس، غیر تربیت یافتہ مزدوروں کے ذریعے سی این جی کٹس کی تبدیلی سے بڑھتے ہوئے حادثات اور سی این جی گاڑیوں کے سلنڈر اور کٹس کی انسپکشن/ٹیسٹنگ سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی نے سی این جی سلنڈر اور کٹس کی درآمد پر پابندی میں نرمی، سی این جی سلنڈر کٹس درآمد کرنے کیلئے مجاز ڈیلروں کو اجازت دینے اور کسٹم ڈیوٹی میں کمی کا فیصلہ کیا۔

کمیٹی نے سون میانی بحریہ فائونڈیشن ایل این جی ٹرمینل پراجیکٹ سے نوابشاہ تک ایل این جی گیسی فیکیشن ٹرمینل کو ملانے کیلئے سٹیٹ گیس سسٹم پرائیویٹ لمیٹڈ کو پائپ لائن تعمیر کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ بھی کیا، پائپ لائن سے 700 سے 1200 مکعب ملین کیوبک فٹ روزانہ ہائی پریشر ری گیسی فائیڈ لیکو فائیڈ نیچرل گیس منتقل کرنے کی صلاحیت ہو گی جو کہ ملک کے شمالی حصہ کو فراہم کی جائے گی، یہ منصوبہ توانائی بحران سے نمٹنے اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کی ایل این جی پر زیادہ ٹیکس کم کرنے کیلئے ایل این جی پر مارجن میں ردوبدل کی تجویز بھی منظور کر لی گئی۔ کمیٹی نے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کو 150 ملین ڈالر کی سرکاری گارنٹی جاری کرنے کیلئے لیٹر آف کریڈٹ/سٹینڈ بائی لیٹر آف کریڈٹ فیسیلیٹی دینے کی بھی اجازت دی، اس سے پی ایل ایل کو وسط اور طویل مدتی بنیادوں پر ایل این جی خریداری کی سہولت ملے گی۔ اجلاس میں ملک میں پائنیر صنعتوں کو مراعات دینے کے تناظر میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پائنیر انڈسٹری پالیسی کے تحت مراعات کیلئے قانون سازی کا موقع فراہم کرنے کیلئے کسٹم ایکٹ 1969ء کے سیکشن 19، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء میں ترامیم کی بھی منظوری دی۔