عوام ملک میں شرعی نظام چاہتی ہے تو ایم ایم اے کا ساتھ دے، شاہ محمداویس نورانی

حکومت کی آئینی مدت پوری ہونا جمہوریت کے لئے نیک شگون ہے۔ متحدہ مجلس عمل عید کے بعد زوردار انتخابی مہم شروع کرے گی ون کو پشاور، 29 جون کو ملتان، 8 جولائی کو راولپنڈی اور 12 جولائی کو ایبٹ آباد میں بڑے جلسے منعقد کئے جائیں گے،ترجمان ایم ایم اے

بدھ مئی 20:02

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور متحدہ مجلس عمل کے ترجمان صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی نے کہا ہے کہ عوام ملک میں شرعی نظام چاہتی ہے تو ایم ایم اے کا ساتھ دے۔ حکومت کی آئینی مدت پوری ہونا جمہوریت کے لئے نیک شگون ہے۔ متحدہ مجلس عمل عید کے بعد زوردار انتخابی مہم شروع کرے گی۔ انتخابی مہم کے دوران 24 جون کو پشاور،، 29 جون کو ملتان،، 8 جولائی کو راولپنڈی اور 12 جولائی کو ایبٹ آباد میں بڑے جلسے منعقد کئے جائیں گے۔

عالمی طاقتیں پاکستان میں شام اور عراق جیسے حالات پیدا کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ القدس میں امریکی سفارت خانہ امن عالم کی بربادی کا دروازہ ہے۔ بھارت کشمیر کے دیرینہ مسئلے کو کشمیری قوم کی خواہشات کے مطابق حل کرے۔

(جاری ہے)

کشمیر اور فلسطین کی سنگین صورت حال پر عالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی افسوسناک ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جے یو پی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صاحبزادہ شاہ اویس نورانی نے مزید کہا کہ نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک شفاف انتخابات یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کریں۔ منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کی سازشیں ناکام ہونا اور جمہوری حکومت کا مدت پوری کرنا خوش آئند ہے۔ قوم ووٹ کے درست استعمال سے نئے انقلاب کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ ایم ایم اے کے امیدواروں کا فیصلہ کرنے کے لئے مرکزی پارلیمانی بورڈ قائم کر دیا گیا ہے۔ ایم ایم اے کے انقلابی منشور کو بھی آخری شکل دے دی گئی ہے۔ منشور میں ملک و قوم کے تمام مسائل کا حل پیش کیا گیا ہے۔ ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر تمام مکاتب فکر متحد ہیں۔ قوم دینی جماعتوں کے اتحاد کو ضرور پزیرائی دے گی۔