پشاور میں مسلمانوں کے لیے افطار کا اہتمام کرنے والا سکھ تاجر قتل

چرن جیت سنگھ کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ مئی 20:07

پشاور میں مسلمانوں کے لیے افطار کا اہتمام کرنے والا سکھ تاجر قتل
پشاور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔30مئی 2018ء) ::پشاور میں مسلمانوں کے لیے افطار کا اہتمام کرنے والا سکھ تاجر قتل کر دیا گیا۔ چرن جیت سنگھ کو نامعلوم افراد نے گولیاں کا نشانہ بنا دیا۔تفصیلات کے مطابق پشاور میں مسلمانوں کے لیے افطار کا اہتمام کرنے والا سکھ تاجر قتل کر دیا گیا۔ چرن جیت سنگھ کو نامعلوم افراد نے گولیاں کا نشانہ بنا دیا۔سردار چرن جیت سنگھ کو اس وقت نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا جب وہ کوہاٹ روڈ پر واقع سکیم چوک میں اپنی دکان میں موجود تھے۔

موٹرسائیکل سوار حملہ آور واردات کرنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔چرن جیت سنگھ کو مذہبی رواداری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔معروف سکھ رہنما چرن جیت سنگھ ہر رمضان میں اپنے عالقے کے نادار مسلمانوں کے لیے افطار کا اہتمام کرتے تھے۔

(جاری ہے)

جس پر سینکڑوں مستحق مسلمان ہر سال افطار کیا کرتے تھے۔دوسری جانب چرن جیت سکھ ایک متحرک سکھ رہنما تھے اور اپنے عقائد کے حوالے سے کافی مضوط تھے۔

سردار چرن جیت سنگھ کے آبا و اجداد کا تعلق قبائلی علاقے تیراہ سے تھا مگر لگ بھگ دو ڈھائی سال قبل وہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے درجنوں خاندانوں کے ہمراہ پشاور منتقل ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ پشاور اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا ہے۔ اپریل 2016 میں وزیر اعلی کے مشیر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار سورن سنگھ کو ضلع بونیر میں ان کے گھر ہی میں مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔اس حوالے سے سکھ کمیونٹی میں خاصے خدشات اور تحفظات پائے جا رہے اور وہ حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ سکھ کمیونٹی کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھائیں۔