اسلام آباد کی نجی یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں کرنے والے پروفیسر نے لڑکیوں پر سنگین الزامات لگا دئیے

لڑکیاں زیادہ نمبر لینا چاہتی تھیں ،جب انکو محسوس ہوا کہ انکی خواہشات پوری نہیں ہوئیں تو انہوں نے مجھ پر الزامات لگا دئیے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ مئی 20:31

اسلام آباد کی نجی یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں کرنے والے پروفیسر ..
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔30 مئی 2018ء) اسلام آباد کی نجی یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں کرنے والے پروفیسر کا موقف سامنے آگیا۔ پروفیسر نےلڑکیوں پر سنگین الزامات لگا دئیے۔مذکورہ شخص کا کہنا تھا کہ لڑکیاں زیادہ نمبر لینا چاہتی تھیں ،جب انکو محسوس ہوا کہ انکی خواہشات پوری نہیں ہوئیں تو انہوں نے مجھ پر الزامات لگا دئیے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی نجی یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں کئیے جانے کا معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے ۔

اس حوالے سے طالبات نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تو ہر طرف ہلچل مچ گئی۔ لڑکیوں کا کہنا تھا امتحان کے دوران مذکورہ امتحان لینے والے فرد کی جانب سے انہیں بدکار ریمارکس کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا۔۔طالبہ کے مطابق یہ واقعات بحریہ کالج کی حیاتیات یا بیالوجی کی خاتون استاد کے سامنے پیش آئےجنہوں نے طالبات کو مشورہ دیا کہ وہ ان واقعات کا ذکر کسی سے نہ کریں کیونکہ امتحان میں ان کے نمبرز جنسی طور پر ہراساں کرنے والے فرد کے ہاتھ میں ہیں۔

(جاری ہے)

طالبہ کے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹ کی پیروی کرتے ہوئے کالج کی متعدد طالبات بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئیں اور اپنے ساتھ ہونے والے ایسے واقعات کے بارے میں بتایا جبکہ ایک اور طالبہ نے 18 عہد نامے تیار کیے جو انہوں نے بعدِ ازاں سوشل میڈیا ویب سائٹس پر شائع کیے۔کئی متاثرہ لڑکیوں نے دعویٰ کیا کہ امتحان لینے والے فرد کی جانب سے جنسی طور ہراساں ہونے والی طالبات کی تعداد 80 تک ہو سکتی ہے۔

اس قدر زیادہ تعداد میں لڑکیوں کی جانب سے ہراساں کئیے جانے کی شکایت پر انتظامیہ نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ۔تازی ترین اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کی نجی یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں کرنے والے پروفیسر کا موقف سامنے آگیا۔ پروفیسر نےلڑکیوں پر سنگین الزامات لگا دئیے۔مذکورہ شخص کا کہنا تھا کہ لڑکیاں زیادہ نمبر لینا چاہتی تھیں ،جب انکو محسوس ہوا کہ انکی خواہشات پوری نہیں ہوئیں تو انہوں نے مجھ پر الزامات لگا دئیے۔س نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ لڑکیوں نے زیادہ نمبر لینے کے لیے خود نازیبا حرکتیں کیں اور اب ملبہ مجھ پر ڈال دیا۔اسکا مزید کہنا تھا کہ ان لوگوں نے مجھ پر الزامات لگا کر میری زندگی اجیرن کر دی ہے۔