اسلام آباد میں کالج طالبات کا استاد پر ہراساں کرنے کا الزام

جنسی ہراسانی کے خلاف احتجاج پر مذکورہ استاد نے طالبات کو مبینہ طور پر دھمکیاں بھی دیں

بدھ مئی 20:48

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ کالج میں طالبات نے بیالوجی کے ایک استاد پر دوران امتحان جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔کالج کی ایک طالبہ نے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ ان کے بیالوجی کے پروفیسر نے پریکٹیکل کے دوران ان سے غیر اخلاقی گفتگو کی اور جنسی ہراساں کیا جس پر وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔

طالبہ نے لکھا کہ جب میں اپنا پریکٹیکل دینے جا رہی تھی تو مجھے میری ساتھیوں نے خبردار کیا تھا کہ ممتحن ٹھیک نہیں ہیں یہ لڑکیوں کو ہراساں کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پہلے انہیں یقین نہیں آیا تاہم جب وہ خود ہراسگی کا شکار ہوئیں تو فیصلہ کیا کہ آگے ہمیں ایک نئی زندگی شروع کرنی ہے، ایسا رویہ برداشت کے باہر ہے، یہ ہمارا آخری سال ہے اس لیے ہم کیوں چپ رہیں ،ْکالج انتظامیہ نے معاملے کا سوشل میڈیا سے علم ہونے پر طالبات سے رابطہ کر لیا ہے۔

(جاری ہے)

کالج پرنسپل کے مطابق طالبات نے کالج انتظامیہ کو بیالوجی کا پریکٹیکل لینے والے استاد کے رویے کی شکایت کی اور بتایا کہ پروفیسر نے ان سے نازیبا گفتگو کی اور اور جنسی طور پر ہراساں کیا۔کالج پرنسپل نے بتایا کہ جنسی ہراسانی کے خلاف احتجاج پر مذکورہ استاد نے طالبات کو مبینہ طور پر دھمکیاں بھی دیں۔ذرائع وفاقی تعلیمی بورڈ کے مطابق نجی کالج نے بورڈ کو بیالوجی کے استاد کے خلاف انکوائری کی درخواست کی ہے جس پر فیڈرل بورڈ کی جانب سے کنٹرولر امتحانات کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی کے ممبران نے کالج کا دورہ کیا اور مذکورہ استاد سے بھی ان کا موقف لیا۔استاد کا کہنا ہے کہ وہ 12 سال سے مختلف کالجز اوراسکولز میں امتحانات کے لیے جارہے ہیں لیکن زندگی میں پہلی بار ان پر ایسا الزام لگا ہے جس سے انتہائی دل گرفتہ ہیں۔وفاقی تعلیمی بورڈ کے مطابق جمعرات تک مذکورہ استاد اپنا تحریری بیان بورڈ کو جمع کروا دیں گے۔