مصر،زمانہ قدیم کے شاہی حمام سے تانبے کے مجسمے، اوزار اور طلائی سکہ برآمد

طلائی سکہ پر تیسری صدی عیسوی کے مصری حکمرانشاہ بولیمی سوئم کی شبیہ موجود

بدھ مئی 21:00

قاہرہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) مصر میں زمانہ قدیم کے شاہی حمام سے تانبے کے مجسمے، اوزار اور طلائی سکہ برآمد ہوئے ہیں، طلائی سکہ پر تیسری صدی عیسوی کے مصری حکمرانشاہ بولیمی سوئم کی شبیہ بنی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مصر کے شمالی علاقے سان الحجار میں زمانہ قدیم کی عالیشان عمارت کی باقیات دریافت ہوئی ہیں۔ جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ تیسری صدی عیسوی میں مصر پر حکمرانی کرنے والے شاہ بولیمی سوئم کی شبیہ بھی یادگار طلائی سکے پر بنی ہوئی ہے اور بڑی اہمیت رکھتی ہے۔

پوری عمارت غالبا اینٹوں سے تیار کردہ تھی۔ اس حمام کا سراغ لگانے والے ماہرین آثار قدیمہ کو یہاں سے مٹی کے کچھ برتن ، ٹیرا کوٹا مجسمے اور تانبے کے بنے ہوئے اوزار کے ساتھ ایک یادگار طلائی سکہ بھی ملا ہے۔

(جاری ہے)

جس پر تیسری صدی کے حکمراں شاہ بولیمی سوئم کی شبیہ بھی بنی ہوئی ہے۔ ماہرین ِآثار قدیمہ اس حمام اور اس سے نکلنے والی چیزوںکو سلطنت روما کے دنوں کی یادگار قرار دے رہے ہیں۔

برآمد ہونے والے حمام کی لمبائی 52فٹ ہے او ریہ سرخ اینٹوں سے تیار کردہ ہے۔ حمام کے اندر سے منقش قسم کے پتھروں کی بڑی تعداد برآمد ہوئی ہے تاہم جو سب سے زیادہ اہم نوعیت کی چیز ہے وہ اپنے سائز کے اعتبار سے بہت چھوٹی ہے او روہ طلائی سکہ ہے۔ جو شاہ بولیمی سوئم کی شبیہ سے مزین ہے۔ تاریخی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ شاہ بولیمی سوئم قلوپطرہ کے جد اعلی تھے۔

مصری وزارت نوادرات کا کہناہے کہ یہ سکہ بولیمی سوئم نے اپنے باپ کی یاد میں بنوایا تھا۔ سکے کا قطر 2.6سینٹی میٹر ہے اور وزن 28گرام بتایا جاتا ہے۔ سکے کی پشت پر کچھ دوسری شبیہیں بھی ہیں جن پر قدیم عبرانی زبان میں بعض عبارتیں تحریر ہیں جن کا مطلب خوشحالی کی سرزمین بتایا جاتا ہے۔ مصری آثار قدیمہ کے محکمے کی سربراہ ڈاکٹر ایمن اشماوی اس دریافت کو بہت اہم قرار دے رہی ہیں۔ محکمہ حمام اور اس کے آس پاس کی جگہوں پر مزید کھدائی کرکے مزید چیزوں کی برآمدگی کی توقع رکھتا ہے۔

متعلقہ عنوان :