لبرل اور سیکولر ازم کا راستہ روکنے کیلئے دینی قوتوں کو مشترکہ حکمت عملی طے کرناہوگی،پاکستان کی داخلی سلامتی اور علاقائی خودمختاری کویقینی بنانے کیلئے آئندہ عام انتخابات کو شفاف ،غیر جانبدارانہ بنانا ہوگا، ملک دشمن قوتیں اپنے عزائم کو پورا کرنے کیلئے پاکستا ن میں داخلی انتشار پیدا کرنا چاہتی ہیں، ملک و قوم کو ایماندار اور محبت وطن قیادت کی ضرورت ہے، الیکشن 2018ء میں عوام دینی قوتوں کو کامیاب کروائے،گزشتہ70سال میں عوام کو مہنگائی،لاقانونیت ،بے روزگاری کے سوا کچھ نہیںملا،اتفاق رائے سے جسٹس (ر)ناصر الملک کی بطور نگران وزیر اعظم نامزدگی کا خیر مقدم کرتے ہیں

مرکزی علماء کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی کا افطار ڈنر سے خطاب

بدھ مئی 21:03

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) مرکزی علماء کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے کہا ہے کہ لبرل اور سیکولر ازم کا راستہ روکنے کیلئے دینی قوتوں کو مشترکہ حکمت عملی طے کرناہوگی،،پاکستان کی داخلی سلامتی اور علاقائی خودمختاری کویقینی بنانے کیلئے آئندہ عام انتخابات کو شفاف ،غیر جانبدارانہ بنانا ہوگا، ملک دشمن قوتیں اپنے عزائم کو پورا کرنے کیلئے پاکستا ن میں داخلی انتشار پیدا کرنا چاہتی ہیں، ملک و قوم کو ایماندار اور محبت وطن قیادت کی ضرورت ہے، الیکشن 2018ء میں عوام دینی قوتوں کو کامیاب کروائے،گزشتہ70سال میں عوام کو مہنگائی،،لاقانونیت ،بے روزگاری کے سوا کچھ نہیںملا،اتفاق رائے سے جسٹس (ر))ناصر الملک کی بطور نگران وزیر اعظم نامزدگی کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔

(جاری ہے)

وہ بدھ کویہاں افطار ڈنر سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر مولانا عبید الرحمن ضیاء،مولانا یار محمد عابد،پیر جی خالد محمود قاسمی،حافظ شعیب الرحمن قاسمی،پیر ثناء اللہ حسینی،مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا شاہ نواز فاروقی،مولانا شبیر احمد عثمانی،مفتی حفظ الرحمن بنوری،مولانا خالد محمود سرفرازی،حافظ محمد طیب قاسمی ودیگر نے بھی موجود تھے۔

مرکزی علماء کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات کے شفاف اور غیر جانبدارانہ انعقاد کیلئے تمام قومی اداروں بالخصوص قومی سلامتی کے اداروں کو بھی اپنا کردار اداکرنا چاہئے ۔عوام ووٹ کے ذریعے ایسی محب وطن اور ایماندار قیادت کا انتخابات کرے جو پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بناسکے۔

انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کی طرف سے الیکٹرانک چینلز پر پانچ وقت کی اذان اور اسلامی تعلیمات پر مبنی پروگرام نشر کرنے کے فیصلے کو معطل کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈویژن بینچ کے فیصلے کو ’’سیکولر‘‘ قرار دیا ہے۔ ڈویژن بینچ نے فیصلے کو معطل کرکے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کیا ہے۔۔پاکستان اسلامی جمہوریہ ریاست ہے ۔

آئین پاکستان میں تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان میں اسلام کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی کے فیصلے پر پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں نے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا تھا جبکہ ڈویژن بینچ کے جج صاحبان نے اس فیصلے کو معطل کرکے پاکستانی قوم کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سحری و افطاری کے اوقات میں ٹی وی چینلز پراذان ، درود شریف ،اسلامی تعلیمات پر مبنی پروگراموں اور پاکستان کی سلامتی واستحکام کیلئے دعائیں کروانے کے فیصلے نے اتحاد ویکجہتی ،رواداری اور خیر وبرکت کا جو ماحول پیدا کیا تھا ڈویژن بینچ کے فیصلے سے اس کو شدید نقصان پہنچاہے۔

انہوںنے کہا کہ پوری قوم مطالبہ کررہی ہے کہ ڈویژن بینچ کے جج صاحبان اپنے فیصلے کو واپس لیں اور الیکٹرانک میڈیا پر پانچ وقت کی اذان ،درود شریف ،اسلامی تعلیمات پر مبنی پروگرام اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سلامتی و استحکام کیلئے خصوصی دعائیں نشر کی جائیں ۔