تحریک انصاف یوٹرن اور جھوٹ بولنے کی ماہر ،نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے معاملے پر موقف میں تبدیلی تازہ مثال ہے،مریم اورنگزیب

جمہوری نظام میں اپوزیشن کاحکومت سے زیادہ اہم کردارہوتا ہے،آئندہ الیکشن میں عوام حکومتی کارکردگی کی بنیادپرووٹ دینے کا فیصلہ کرینگے،چیئرمین پیمرا کی تعیناتی عدالتی احکامات اورکمیٹی سفارشات کی روشنی میں کی گئی ، وفاقی کا بینہ نے پاکستان کی پہلی ثقافتی پالیسی اور پاکستان فلم اوربراڈ کاسٹنگ پالیسی کی منظوری دیدی،ثقافت صوبوں کو ایک دوسرے سے جوڑسکتی ہے،صوبوں کی مشاورت سے پالیسی تشکیل دی گئی،پالیسی میں تعلیمی نصاب میں کلچر کے حوالے سے مضامین شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے،پاکستان کا مثبت تشخص اجاگرکرنے کیلئے ثقافت کا فروغ بہت اہم ہے،فلم انڈسٹری ثقافت کے فروغ کیلئے کلیدی کرداراداکرتی ہے،چین کے فلم فیسٹیول میں پاکستانی فلموں کو شامل کر لیا گیا ہے ،چینی سینما ؤں میں پاکستانی فلمیں بھی دکھائی جائیں گی،موجودہ اور سابقہ 5سالہ دورکاموازنہ کیاجائے تو فرق بہت واضح ہے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب

بدھ مئی 21:08

تحریک انصاف یوٹرن اور جھوٹ بولنے کی ماہر ،نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ تحریک انصاف یوٹرن اور جھوٹ بولنے کی ماہر ہے ،نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے حوالے سے انکے موقف میں تبدیلی تازہ ترین مثال ہے،جمہوری نظام میں اپوزیشن کاحکومت سے زیادہ اہم کردارہوتا ہے،آئندہ الیکشن میں عوام حکومتی کارکردگی کی بنیادپرووٹ دینے کا فیصلہ کرینگے،چیئرمین پیمرا کی تعیناتی عدالتی احکامات اورکمیٹی سفارشات کی روشنی میں کی گئی ، وفاقی کا بینہ نے پاکستان کی پہلی ثقافتی پالیسی اور پاکستان فلم اوربراڈ کاسٹنگ پالیسی کی منظوری دیدی،ثقافت صوبوں کو ایک دوسرے سے جوڑسکتی ہے،صوبوں کی مشاورت سے پالیسی تشکیل دی گئی،پالیسیمیں تعلیمی نصاب میں کلچر کے حوالے سے مضامین شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے،،پاکستان کا مثبت تشخص اجاگرکرنے کیلئے ثقافت کا فروغ بہت اہم ہے،،فلم انڈسٹری ثقافت کے فروغ کیلئے کلیدی کرداراداکرتی ہے،،چین کے فلم فیسٹیول میں پاکستانی فلموں کو شامل کر لیا گیا ہے ،چینی سینما ؤں میں پاکستانی فلمیں بھی دکھائی جائیں گی،موجودہ اور سابقہ 5سالہ دورکاموازنہ کیاجائے تو فرق بہت واضح ہے۔

(جاری ہے)

وہ بدھ کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے ڈی جی جمال شاہ اور چیئرمین پیمرا سلیم بیگ کے ہمراہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی ) میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ روز وفاقی کا بینہ نے پاکستان کی ثقافتی پالیسی اور پاکستان فلم اوربراڈ کاسٹنگ پالیسی منظور کی، ثقافتی پالیسی سابق وزیراعظم نواز شریف کا ویژن تھا، سابق وزیراعظم نواز شریف چاہتے تھے کہ ملک میں ایسی پالیسی ہونی چاہیے جو پورے ملک کی ثقافت کو اکٹھا کرے،ثقافت ہی ہمیں آپس میں جوڑنے کا ذریعہ ہے ،ثقافتی پالیسی پر ماہرین کی بھی رائے لی گئی صوبوں سے بھی مشاورت کی گئی،ثقافتی پالیسی قومی ثقافت کو محفوظ بنانے میں بھی مددگار ہو گی ،اختلاف رائے کو دشمنی نہیں بننا چاہیے،اختلاف رائے اگر دشمنی میں بدل جائے تو اس میں ملک کا نقصان ہے،ثقافتی پالیسی میں ثقافت کو نصاب کا حصہ بنانے کی بھی بات کی گئی ہے ۔

18ویں ترمیم کے بعد صوبوں الگ ہوچکے ہیں اور آزاد یونٹ بن رہے ہیں، ہماری ثقافت ہمیں ایکدوسرے سے جوڑنے کی وجہ بن سکتی ہے ،پالیسی مرتب کرنے کیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی جس کے سربراہ سابق وزیراطلاعات پرویز رشید ہیں، جبکہ دیگر ممبران میں جمال شاہ، عطاء الحق قاسمی ، لوک ورثہ کی سربراہ فوزیہ صاحبہ اور پورے ملک کے ماہرین سے اس پر رائے لی گئی۔

گلگت ، اسکردو، اسلام آباد، مظفر آباد، پشاور ، لاہور ، ملتان،، کوئٹہ ، گوادر اور کراچی سمیت تمام صوبوں اس معاملے پر مشاورت کی گئی ۔۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ پہلی نیشنل کلچر پالیسی کا بننا اہم سنگ میل ہے، قومی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کیلئے یہ پالیسی اہم ثابت ہوگی، آج کل کا دور تیز ٹیکنالوجی کا ہے جس کے باعث ہم اپنی ثقافت اور روایات سے دور ہورہے ہیں۔

اختلافات رائے میںاگر دلیل اور تحمل ہو تو بہتر ہوتا ہے ورنہ اختلاف رائے نقصان دہ ہوتی ہے، فنکار کے پاس جب آمدن کے ذرائع نہیں ہوتے تو وہ لمحہ تکلیف دہ ہوتا ہیں، تھیٹر کا جمہوریت میں اہم کردار ادا ہوتا ہے، یہ پالیسی اقلیتوں کی ثقافت کو اجاگر کرنے کی بات کرتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ پالیسی آرٹ اینڈ کرافٹ کی بات کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 35برس تک ہمارے لوگ دہشتگردی کا شکار رہے، اسی طرح ہماری ثقافت کو بھی قتل کیا گیا، 1967میں ہماری سیاحت بہتر تھی، ہم نے اپنے بچوں کی جانیں دے کر امید کے چراغ جلائے ہیں۔

میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، پاکستان کو منفی سیاست کی وجہ سے نہ پہچانا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صرف 4یا 5لوگ فلم نہ بنائیں بلکہ جو بھی فلم بنانا چاہیے وہ فلم بنائے، فلم ڈائریکٹوریٹ کیلئے اس پالیسی میں فنڈ رکھے گئے ہیں، فلمی صنعت کے آلات کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی 3فیصد کردی گئی ہے پہلے یہ ڈیوٹی 30فیصد تک تھی ، اس کی وجہ ہے کہ فلمی صنعت کے آلات ملک میں باآسانی دستیاب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ فلم سنسز کی فیس کو ختم کردیا گیا ہے، آرٹسٹ اسسٹنس فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے ، باہر کے لوگ جو پاکستان آکر فلم بنانا چاہیے اس کو بھی سہولیات دی جائیں گی، مگر اس کیلئے 80فیصد فلم کا پاکستان میں بننا ضروری ہے، چین کے فلم فیسٹیول میں پاکستان کی فلمیں نمائش کیلئے پیش کی جائیں گی، اس کے ساتھ ساتھ چین کی سینمائوں میں بھی پاکستان کی فلمیں دکھائی جائیں گی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ تمام مسائل کا حل جمہوریت ہے، حکومت نے تمام شعبوں میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگر سیاست میں تہذیب آجائے تو نوجوان بھی سیاست میں حصہ لیں گے، ہم وہ اختلافات رائے نہیں چاہتے جو ڈی چوک دھرنے اور پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کی صورت میں ہو، جو اختلافات رائے ہو پارلیمان کے اندر ہو، اپوزیشن کا کردار حکومت سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے، چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کا عمل سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں کیا گیا، چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کیلئے قائم کی گئی کمیٹی نے آزادانہ طور پر کام کیا،کمیٹی نے تین لوگوں کو شارٹ لسٹ کیا جن میں سرفہرست سلیم بیگ کا نام ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ تحریک انصاف یوٹرن اور جھوٹ بولنے کی ماہر ہے ، تحریک انصاف نے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کیلئے دیئے گئے نام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے یہ نام جلدی میں دیا ہے ،،عمران خان یوٹرن کے ماہرہیں،نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے حوالے سے انکے مؤقف میں تبدیلی تازہ ترین مثال ہے ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ( پی این سی ای) جمال شاہ نے کہا کہ پاکستان کی پہلی قومی کلچر پالیسی بننا خوش آئند ہے ، یہ پالیسی فعل پالیسی ہے، ایسی پالیسی میں تام پہلوں اور اشکال کو مدنظر رکھا گیاہے، یہ پالیسی ملک و قوم کیلئے ایک ایسی بنیاد فراہم کرے کہ لوگ ایک دوسرے کے قریب آئیں اور کلچر کو آگے بڑھایا جائے اور تشخیص کو مضبوط بنایا جائے اور بھارت کی یلغار کے آگے بندھ باندھا جاسکے۔

اہم سفارشات اس پالیسی کا حصہ بنائی گئی ہیں لوگ اپنے کلچر پر فخر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہمارے ملک میں سینما فعال انڈسٹری تھی اور فلمی ستارے ایک درجے رکھتے تھے، سینما تفریح کا آسان ذریعہ ہے، ہمارے سینما کے کمزور ہونے سے بھارتی اور بین الاقوامی کلچر کی یلغار ہوگئی۔