آئین کی اسلامی دفعات کو نشانہ بناکر اسلامی تشخص کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،حافظ نعیم الرحمن

حکومت اور اپوزیشن دونوں لبرل اور سیکولر عناصر کی آلہ کار بنی ہوئی ہیں ، سود کے فرو غ کے لیے پارلیمنٹ میں فیصلے کیے جاتے رہے ہیں،جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس نے اسلام کے دفاع کے لیے آواز اٹھائی ہے، امیر جماعت اسلامی کراچی کادعوت افطار سے خطاب

بدھ مئی 21:35

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں لبرل اور سیکولر عناصر کی آلہ کار بنی ہوئی ہیں ، آئین کی اسلامی دفعات کو نشانہ بناکر پاکستان کی اسلامی شناخت اور تشخص کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، تحفظ ناموس رسالت او ر ختم نبوت کے قوانین پر بار بار حملہ کیا جاتا رہا ہے ، سود کے فرو غ کے لیے پارلیمنٹ میں فیصلے کیے جاتے رہے ہیں ، تعلیمی نصاب ترمیم کی جارہی ہے ،،جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس نے اسلام کے دفاع کے لیے آواز اٹھائی ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں لایا جائے جو پاکستان اور اسلام کا تحفظ کرسکیں۔

جمال طاہر جذبہ جہاد اور شوقِ شہادت سے سرشار تھے ، جمال طاہر نے اپنی پوری جوانی اقامت دین کی جدوجہد میں لگادی اور زندگی کی آخری سانس تک دعوت دین کا علم اٹھاتے رہے۔

(جاری ہے)

جمال طاہر نے کراچی میں امن و محبت اور اخو ت کے لیے عصبیت اور لسانیت کے خلاف جدوجہد میں اپنی جان قربان کردی ، ان کی یادیں ہمیشہ تازہ رہیں گی۔ وہ جماعت اسلامی بن قاسم کے تحت لانڈھی نمبر 3میں بیاد جمال طاہرشہید او ر عوامی دعوت افطار سے خطاب کررہے تھے۔

تقریب سے جنرل سکریٹری جماعت اسلامی ضلع بن قاسم مرزا فرحان بیگ نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر امیر زون لانڈھی محمد شفیق ، طارق مسعود ،کمال طاہر اور دیگر بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایک آزاداور خود مختار ریاست کے قیام کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے اسلام اور دین کی خاطر جانیں قربان کیں لیکن آج ملک پر جاگیردارانہ اور وڈیرہ شاہی طبقہ ملک پر مسلط ہے او ر ہزاروں مسلمانو ں کی تمناؤں کا قتل کیا گیاہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکہ کے ایک شہر ٹیکساس میں 17سالہ لڑکے نے کلاس میں فائرنگ کر کے طلبہ و طالبات کو قتل کردیا اگر یہی فعل پاکستان میں کیا جاتا تو دہشت گردی کا لیبل لگادیا جاتا۔ملک میں انارکی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ حکمران طبقہ امریکہ کی غلامی کررہا ہے۔انہوں نے کہاکہ دنیا کے اندر انسانوں کے بنائے ہوئے نظام اور قانون نے کبھی کوئی سکھ نہیں دیا ، نبی کریم ؐ کا لایا ہوا نظام اورقانون ہی سب سے بہتر ہے ،اسلام کا نظام قائم نہ ہونے کی وجہ سے محرومیاں پیدا ہوئیں، ذات اورقومیت میں تقسیم پید اہوئی اور لسانیت و عصیت کے نام پر سیاست کی گئی۔

انہوں نے کہاکہ صوبے و شہر پرحکومت کرنے والوں نے ہمیشہ عوام کا استحصال کیا ، عوام کو مہاجر ، سندھی ، پٹھان اور بلوچی کے نام پر لڑوا کر خود اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ،60گز کے گھر میں رہنے والے 600گز کے پلاٹ کے مالک ہوگئے اور عوام کو محرومیوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ 32سالوں میں آج تک پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوا ، کراچی کا پانی فروخت کر کے ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے۔

جماعت اسلامی نے اپنے دورحکومت میں سابق میئر کراچی عبد الستار افغانی کے دور میں 165اور سابق سٹی ناظم کے دور میں 100ملین گیلن یومیہ کا اضافہ کیا تھا اور اس کے بعد نعمت اللہ خان نے K4منصوبہ شروع کیا تھا جوکہ 2010میں مکمل ہونا تھا جو اب تک حکمرانوں کی نااہلی اور ناقص کاکردگی کے باعث مکمل نہ ہوسکا اور 2020میں بھی مکمل ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سیاست جب کرپٹ لوگوں کے ہاتھوں میں چلی جائے تو گندگی ، بدعنوانی اور جھوٹ بن جاتی ہے اور اسی طرح جب سیاست اہل اور امانت دار لوگوں کے ہاتھوں میں آجائے تو یہی سیاست عبادت بن جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ شہر میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ پانی اور بجلی کا ہے شدید گرمی اور ہیٹ ویوزکے موقع پر بھی کے الیکٹرک نے شہریوں کا جینا مشکل کیا ہوا ہے اور واٹر بورڈ نے شہریو ں کو پینے کے صا ف پانی سے محروم کیا ہوا ہے ، شہر کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔شہری اب اس بات کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ ان کو محرومیوں میں مبتلاکیا جائے ا ب ہم سب کو مل کر محرومیوں کا سامنا کرنا ہوگا اور اہل قیادت کو منتخب کرنا ہوگا جو ہر سطح پر عوام کا مسئلہ حل کرے۔#