سرکاری کالجز کے پروفیسرز کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھ گئے

بدھ مئی 21:44

کو ئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) بلوچستان کے سرکاری کالجز کے پروفیسرز کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھ گئے ،احتجاجی دھرنا مطالبات تسلیم ہونے تک جاری رہے گا،اعلان کردہ مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے کیخلاف بدھ کے روز شدید گرمی میں احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی جس کے شرکا ریڈ زون کی جانب جانا چاہتے تھے تاہم اجازت نہ ملنے پر پریس کلب کے باہر دھرنا دے کر بیٹھ گئے وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے کالج پروفیسرز کیلئے اعلان کردہ،ہائرایجوکیشن الانس ،کنوینس الانس و دیگر مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف بدھ کو بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن نے گورنمنٹ سائنس کالج کوئٹہ سے ایک احتجاجی ریلی نکالی جس میں خواتین پروفیسرز کی بھی ایک بڑی تعداد شریک تھی مظاہرین نے مختلف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ان کے مطالبات اور مختلف نعرے درج تھے مظاہرین جناح روڈ سے ہوتے ہوئے شارع عدالت پر واقع کوئٹہ پریس کلب پہنچے جہاں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بی پی ایل اے کے صدر پروفیسر آغازاہد ،جنرل سیکریٹری پروفیسر نذیر لہڑی،پروفیسر عین الدین کبزئی، پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ و دیگر مقررین نے کہا کہ کالج پروفیسرز مختلف مسائل کا شکار ہیں وزیر اعلی میر عبدالقدوس بزنجو نے بی پی ایل اے کے مطالبات کی روشنی میں کالج پروفیسرز اور لیکچرز کے لئے ہائرایجوکیشن الانس و دیگر اعلانات کیے محکمہ خزانہ کی منظوری کے باوجود بیوروکریسی میں موجود بعض عناصر پروفیسر برادری کے جائز مطالبات کے حل میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں جس کے باعث مجبور ہوکر پروفیسرز اور لیکچرز سڑکوں پر نکل آئے ہیں رمضان المبارک میں شدید گرمی کے باوجود مرد اور خواتین اساتذہ کا سڑکوں پر خوار ہونا بہت بڑا المیہ ہے۔

(جاری ہے)

مظاہرین بیوروکریسی کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے مظاہرین نے پریس کلب سے جی پی او چوک جانے کی کوشش کی تاہم پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے انہیں جانے کی اجازت نہیں ملی جس پر مظاہرین وہیں کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور بعدازاں باقاعدہ کیمپ لگایا گیا جو بی پی ایل اے کے رہنماں کے مطابق مطالبات کی مکمل منظوری تک جاری رہے گا ۔