تحریک انصاف یا مسلم لیگ ن ، این اے 142 اوکاڑہ کی عوام نے فیصلہ سنا دیا

حلقے کی 72 فیصد عوام مسلم لیگ ن جبکہ 26 فیصد لوگ پاکستان تحریک انصاف کے حامی ہیں

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ مئی 20:51

تحریک انصاف یا مسلم لیگ ن ، این اے 142 اوکاڑہ کی عوام نے فیصلہ سنا دیا
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) تحریک انصاف یا مسلم لیگ ن ، این اے 142 اوکاڑہ کی عوام نے فیصلہ سنا دیا حلقے کی 72 فیصد عوام مسلم لیگ ن جبکہ 26 فیصد لوگ پاکستان تحریک انصاف کے حامی ہیں.تفصیلات کے مطابق 2018 پاکستان میں عام انتخابات کا سال ہے۔جیسے جیسے انتخابات قریب سے قریب تر آ رہے ہیں سیاسی جوڑ توڑ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔شاس حوالے سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے جلسوں کی صورت میں سیاسی پاور شو کے سلسلے بھی جاری و ساری ہیں اور ان جلسوں میں بڑے بڑے سیاسی نام اپنی پارٹیوں کو خیر باد کہہ کر نئی جماعتوں کے ساتھ اپنی سیاسی وفاداریوں کا اعلان کر رہے ہیں۔

سیاسی کارکنان اور رہنما اپنے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے تحت سیاسی وفاداریاں تبدیل کررہے تو دوسری جانب متعلقہ اداروں نے بھی انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے سیاسی تجزیہ نگاروں نے بھی انتخابات کے حوالے سے مختلف پیشگوئیاں شروع کر دی ہیں جبکہ قبل از وقت انتخابات کے نتائج کا اندازہ لگانے کے لیے مختلف صحافیوں کی جانب سے سروے بھی کئیے جا رہے ہیں۔

اسی قسم کا ایک سروے معروف صحافی حبیب اکرم کی جانب سے قصور کے حلقے این اے 142 اوکاڑہ میں کیا گیا۔اوکاڑہ جسے مسلم لیگ ن کا گڑھ بھی سمجھا جاتا رہا ہے اب بھی مسلم لیگ ن ہی کے حق میں فیصلہ سنا رہا ہے۔صحافی حبیب اکرم نے سروے کے نتائج بتاتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی اوکاڑہ کے اس حلقے میں مسلم لیگ ن کی پکڑ خاصی مظبوط ہے۔سروے کے شرکا میں سے 72فیصد لوگوں کی سیاسی ہمدردیاں مسلم لیگ ن کے ساتھ تھیں جبکہ حلقے کے 26 فیصد عوام نے مسلم لیگ ن کی بجائے تحریک انصاف کے ساتھ اپنی سیاسی وفاداری کااعلان کیا جبکہ صرف 2 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ ان کے علاوہ دیگر پارٹیوں کو ووٹ دیں گی۔

حبیب اکرم کا کہنا تھا اس سروے کو بھی حتمی نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ انتخابات میں امیدوار کون ہو گا یہ بات بھی اہم رول ادا کرے گی۔۔مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک اس حلقے میں امیدوار پر انحصار کرے گا جبکہ تحریک انصاف کے لیے امیدوار کوئی بھی ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔انکا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ وہی حلقہ ہے جہاں سے ریاض الحق جج مسلم لیگ ن کی سیٹ سے منتخب ہوئے ہیں اور یہاں مسلم لیگ ن سے زیادہ ریاض الحق جج کو اہمیت دیتے ہیں اس لیئے اگر مسلم لیگ ن یہاں سے انتخابات جیتنا چاہتی ہے تو انہیں ریاض الحق کو ہر حوالے سے ترجیح دینا چاہیے ۔

اگر مسلم لیگ ن ریاض الحق جج کو کھو بیٹھی تو ہو سکتا ہے انتخابات کا پانسہ پلٹ جائے اور تحریک انصاف انتخابات میں بازی لے جائے۔اس حوالے سے حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ انتخابات میں نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ تو انتخابات ہی بتائیں گے۔