سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کے الزامات اور انکشافات پر کیپٹن (ر) صفدر کا ردعمل

اسد درانی کی قسمت کا فیصلہ پارلیمان کو کرنا چاہیے، آنے والی اسمبلی اسد درانی کو بلائے اور ان سے سوالات بھی کئے جائیں گے: قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال

muhammad ali محمد علی بدھ مئی 21:01

سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کے الزامات اور انکشافات پر کیپٹن (ر) صفدر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) محمد صفدر نے کہا ہے کہ اسد درانی کی قسمت کا فیصلہ پارلیمان کو کرنا چاہیے، آنے والی اسمبلی اسد درانی کو بلائے گی اور ان سے سوالات کئے جائیں گے‘ اگر حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد ہوتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی‘ آرٹیکل 6 کے تحت پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانا چاہیے‘ فاٹا انضمام کے حوالے سے فیصلہ کرکے پارلیمان نے بابائے قوم کے وعدے کو عملی جامہ پہنایا ہے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیپٹن (ر) محمد صفدر نے کہا کہ دوسرا جمہوری دور مکمل ہو رہا ہے اور ہم کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن کے لئے حلقوں میں جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ اس اسمبلی کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔

(جاری ہے)

فاٹا کے عوام کو 1973ء کے آئین کے تحت کور ملا ہے‘ میں تمام پشتون عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

یہ حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے اور اس پر میں سرتاج عزیز کو بالخصوص مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہم نے بابائے قوم کے وعدے کو عملی جامہ پہنایا ہے اور یہاں کے عوام کو حقوق ملے ہیں۔ انہوں نے فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام اور منظور پشتین سے مذاکرات کی تجویز پیش کی اور کہا کہ اس معاملے کو پارلیمان کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کیپٹن صفدر نے کہا کہ ووٹ کو عزت نہ دی گئی تو اس کے اچھے اثرات مرتب نہیں ہوں گے، ووٹر اپنے ووٹ پر پہرہ ضرور دے گا۔

ہم نے پانچ سالوں میں کام کیا اور آئین اور پارلیمان کو عزت دی۔ انہوں نے کہا کہ جب 2013ء میں اقتدار میں آئے تو 18,18 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی‘ اللہ کے فضل سے اور جمہوریت کے حسن سے مسائل حل ہوئے ہیں۔ کیپٹن صفدر نے کہا کہ اسد درانی کی قسمت کا فیصلہ اس پارلیمان کو کرنا چاہیے‘ ہم نے 1973ء کے آئین کو تحفظ دینا ہے۔ یہ ہائوس پاکستان کی سلامتی کا ضامن ہے۔

آنے والی اسمبلی اسد درانی کو بلائے گی اور ان سے سوالات کئے جائیں گے۔ اگر حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد ہوتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی‘ آرٹیکل 6 کے تحت مشرف کا ٹرائل بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں پیشیاں بھگتنے والے ایم این ایز کی پیشی اور پارلیمان میں حاضری کے حوالے سے قانون سازی ضروری ہے۔ انہوں نے کالا ڈھاکہ کے عوام کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ واجد ضیاء نے مجھے جھوٹا کہا ہے اور یہ معاملہ میں نے کمیٹی میں اٹھایا ہے، اس کو کمیٹی کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔