غزہ میں جاری کشت و خون کو روکنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ سیز فائر پر اتفاق ہوگیا ہے ،ْحماس

بدھ مئی 21:50

غزہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) حماس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری کشت و خون کو روکنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ سیز فائر پر اتفاق ہوگیا ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق حماس کے رہنمائوں نے 2014ء سے جاری مسلسل جنگ کے بعد اسرائیل کے ساتھ سیز فائر ہونے کا دعوی کیا ہے۔ حماس رہنمائوں کی جانب سے سیز فائر کا دعوی گزشتہ شب تنظیم کے کئی ٹھکانوں پر اسرائیلی بمباری کے بعد سامنے آیا تاہم اسرائیل نے اس حوالے سے تصدیق یا تردید نہیں کی ۔

حماس کے ڈپٹی چیف خلیل الحایا نے میڈیا کو سیز فائر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان کئی اہم شخصیات نے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس اہم فیصلے کیلئے کئی بار مذاکرات ہوئے جس کے بعد ضامن ممالک اور شخصیات کی یقین دہانی پر سیز فائر پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں بھرپور عسکری طاقت آزمانے کی دھمکی کے بعد مصر کے سیکیورٹی حکام نے اسرائیل اور حماس کے درمیان سیز فائر کے لیے کلیدی کردار ادا کیا جب کے عالمی ادارے اور چند اہم بین الاقوامی شخصیات نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا ہے تاہم اسرائیل کی جانب سے اس حوالے سے مسلسل خاموشی شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہیں۔

واضح رہے کہ 30 مارچ کو ’’یوم الارض‘‘ سے اب تک اسرائیلی جارحیت میں 120 فلسطینی شہید اور 3 ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں دوسری جانب رواں ماہ 22 مئی کو فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع کر کے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی آباد کاری کے خلاف اور اسرائیلی جارحیت کی تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔