سیرت امام حسنؓ میں عکس رسول اکرمؐ نظر آتا ہے، علامہ ساجد نقوی

امت مسلمہ کو جنگ سے بچانے کے لئے صلح حضرت امام حسنؓ کے کردار کی خصوصیت اور سیرت کا امتیاز ہے

بدھ مئی 21:54

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) قائد ملت جعفریہ پاکستان اور اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ نواسہ رسول اکرم ؐ حضرت امام حسن علیہ السلام جوانان جنت کے سردار ہیں۔ آپ کے علم‘ حلم‘ جلالت اور کرامت میں عکس رسول اکرمؐ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ آپ وارث علیؑ و نبیؐ ہونے کے ناطے حضرت علی علیہ السلام کے بعد امامت کا درجہ رکھتے ہیں آپ نے جس انداز میں ظاہری زندگی بسر فرمائی اور امن و اخوت اور صلح و محبت کی لاثانی روایات قائم کیں ان سے سیرت رسول اکرمؐ کی عکاسی ہوتی ہے۔

دوسرے تاجدار امامت حضرت امام حسن علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے مبارک موقع پر اپنے پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ صلح عالم اسلام کے لئے نقطہ آغاز کا مقام رکھتی ہے جس سے سبق حاصل کرکے مسلمان انتشار و افتراق‘ جنگ و جدال اور قتل و غارت گری سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

حضرت امام حسنؑ نے جن مشکل‘ کٹھن اور سنگین حالات میں امت مسلمہ کو جنگ اور فساد سے بچانے کے لئے اور اسلام کی بقاء کے لئے اپنے حریف سے صلح کی یہ ان کے کردار کی خصوصیت اور سیرت کا امتیاز ہے۔

تنگ نظری‘ ذاتی خواہش اور انفرادی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کے حصول اور اسلام کے استحکام کے لئے باہمی رواداری اور صلح و محبت کا ماحول بناکر آپ نے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواسہ رسول ؐ حضرت امام حسن ؑ کی سیرت و کردار سے الہام حاصل کرتے ہوئے ہم نے بھی وطن عزیز میں اتحاد و وحدت کی جدوجہد کو آگے بڑھایا جس سے نہ صرف ارض پاک انتشار و افتراق سے محفوظ رہا بلکہ پاکستانی عوام بھی اخوت کی لڑی میں پروئے جا چکے ہیں ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اتحاد بین المسلمین کا فروغ اور اخوت و وحدت ہمارا دینی و اسلامی فریضہ ہے۔ اسلام کی بقاء اور امت کی وحدت کے لئے ہماری جدوجہد جاری ہے تاہم ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ملک سے دہشت گردی و قتل و غارت گری کا قلع قمع کیا جائے تاکہ میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا نہ ہو۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ آج کے اس کٹھن دور میں جب مسلمان فرقہ واریت‘ مسلک پرستی‘ دہشت گردی اور اخلاقی جرائم میں مبتلا ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ان مسائل سے نبرد آزما ہونے اور اختلافات کو جڑوں سے اکھاڑنے کے لئے باہمی صلح و رواداری کو فروغ دیا جائے اور فروعی اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے سینکڑوں مشترکات پر بلاتفریق فرقہ و مسلک جمع ہوکر اسلام و مسلمین کو متحد کیا جائے اسی سے دین اسلام کو مستحکم ہوگا اور مسلمان خدا کی دنیا کے وارث ہوں گے۔

متعلقہ عنوان :