ایم سی آئی اور سی ڈی اے انتظامیہ کی غفلت ولاپرواہی،ٹمبر مافیا کی مبینہ پشت پناہی

وفاقی دارالحکومت کے پرفضا مقام'' مارگلہ ہلز ''پر ایک مرتبہ پھرشدیدآگ بھڑک اٹھی میئر اسلا م آبادکی جانب پاک آرمی اور فضائیہ کے ہیلی کاپٹرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ اندھیر ے اوردشوارگزار علاقے کے باعث آپریشن صبح تک ملتوی کرنا پڑا

بدھ مئی 22:03

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) میٹروپولیٹن کارپوریشن (ایم سی آئی) اور وفاقی ترقیاتی ادارہ ((سی ڈی اے )انتظامیہ کی غفلت ولاپرواہی اورٹمبر مافیا کی مبینہ پشت پناہی کے باعث وفاقی دارالحکومت کے پرفضا مقام'' مارگلہ ہلز ''پر ایک مرتبہ پھرشدیدآگ بھڑک اٹھی ہے۔آگ مارگلہ کی پہاڑیوں میں درہ جانگلہ کے مقام پر صبح 8.30 پرلگی مگر شعبہ انوائر منٹ کا عملہ موقع پر3گھنٹے تاخیر سے پہنچنا جس کے باعث آگ تیزی سے پھیلتے ہوئے سید پور کے مقام (درہ) سے ہوتی ہوئی مذید3مقامات تک پھیل گئی۔

آگ کے بڑے پیمانے پر پھیل جانے کے باعث میئر اسلا م آبادکی جانب سے آگ پرقابو پانے کیلئے رات گئے این ڈی ایم اے کے ذریعے پاک آرمی اور فضائیہ کے ہیلی کاپٹرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

(جاری ہے)

تاہم اندھیر ے اوردشوارگزار علاقے کے باعث آپریشن صبح تک ملتوی کرنا پڑا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر اختر رسول کا کہنا ہے کہ آگ پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے ،کیبنٹ ڈویڑن سے آگ پر قابو پانے کیلئے ہیلی کاپٹر مانگا گیا تھا مگر ہیلی کاپٹر دستیاب نہیں تھا جس کے بعد این ڈی ایم اے سے مدد طلب کی گئی ہے۔

سی ڈی اے اورایم سی آئی کے شعبہ ایمرجنسی و ڈیزاسٹرمنیجمنٹ (ای اینڈ ڈی ایم)،انوائرمنٹ ،جنگلات ،سکیورٹی سمیت مارگلہ ہلز پارک ویو میں متعدد شعبہ جات اورسینکڑوں آفیسرز وسٹاف کی موجودگی کے باوجود مارگلہ کے جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ذرائع کے مطابق مارگلہ کی پہاڑیوں میں انتہائی قیمتی اور نایاب لکڑی پائی جاتی ہے اورہر سال سی ڈی اے اورایم سی آئی کے عملہ کی مبینہ پشت پناہی سے ٹمبرمافیا کروڑوں روپے کی قیمتی لکڑی چوری کرلیتے ہیں بعد ازاں تمام ''ثبوت ''مٹانے کیلئے جنگل کو آگ لگا دی جاتی ہے ،اسی ذرائع کے مطابق مذکورہ ٹمبر مافیا کی جانب سے لکڑی کی چوری کی کامیاب واردات اورآتشزدگی کے بعد سی ڈی اے ،ایم سی آئی اورجنگلات کے کرپٹ افسران اورمارگلہ ہلز پر ڈیوٹیا ں سرانجام دینے والے اہلکاروں کو پور ا پوار ا''حصہ ''فراہم کیاجاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز مارگلہ ہلز پر سید پور کے مقام پر آگ(بد ھ) کی صبح 8.30پر لگی جبکہ میٹروپولیٹن کارپوریشن ( ایم سی آئی) کا شعبہ انوائر منٹ کے عملہ کو متعددبار آگاہ کیاگیا مگر فائر بریگیڈ سمیت کوئی بھی عملہ بروقت موقع پر نہیں پہنچا ۔تاہم جب آگ نے شدت اختیار کی اور مارگلہ ہلز کے گرد و نوا ح کے علاقوں سمیت اسلام آباد کے میدانی علاقے تک سے آگ کے شعلے اوردھوئے کے بادل دکھائی دینے لگے تو تب شعبہ انوائر منٹ کاعملہ دن 12بجے آگ بجھانے موقع پر پہنچا تاہم تین گھنٹوں کی تاخیر سے موقع پر پہنچنے کے باعث آگ نے تیزی سے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور آگ بڑے پیمانے پر پھیلتے ہوئے دور درازعلاقے تک پہنچ گئی ،گزشتہ روز شدید گرمی اورتیز ہوا کے باعث آگ کے شعلے اوردھوئیں کے بادل میلوں دورپھیل گئے۔

تاہم فائر اورریسکیو کی 2گاڑیاں اور80سے زائد عملہ موقع پر پہنچ گیا مگر آگ کے بڑے پیمانے پر پھیل جانے کے باعث رات گئے تک آگ پر قابو نہ پایا جاسکا۔میئر اسلام آباد شیخ انصرعزیز نے آگ پر قابو پانے کیلئے پہلے کیبنٹ ڈویڑن سے ہیلی کاپٹر کے حصول کی درخواست کی مگر ہیلی کاپٹر کی عدم دستیابی کے باعث کارپویشن کو ہیلی کاپٹر نہ مل سکا جس کے بعد میئر نے بذریعہ وزات داخلہ این ڈی ایم اے سے پاک فوج اورفضائیہ کے ہیلی کاپٹرز سے مدد کی درخواست کی مگر رات کے اندھیرے کے باعث ہیلی کاپٹرز صبح فراہم کئے جائیں گے۔

اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر اختررسول کا کہناتھا کہ میں خود موقع پر موجود رہا مگر گرمی اورتیز ہوا کے باعث آگ تیزی سے پھیلی مگر اب بڑی حد تک آگ پر قابو پالیاگیا ہے ہمارے د و اہلکار شدید زخمی بھی ہوئے ہیں مگر اندھیرے اوردشوار گزار علاقے کے باعث ہمیں آپریشن صبح تک ملتوی کرنا پڑرہا ہے۔واضح رہے کہ مذکرہ علاقے میں ڈیڑھ ماہ کے دوران میں مختلف مقامات پر آتشزدگی کی14 سے زائدواقعات رونما ہوچکے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔ ذیشان کمبوہ

متعلقہ عنوان :