نومبر2017 سے اپریل 2018 ء تک ڈسٹرکٹ کوئٹہ میں شناختی کارڈ سے محروم 58000 ہزارخواتین کی نشاندہی،شناختی کارڈ بنوانے میں فافن کی معاونت

بدھ مئی 22:06

کوئٹہ۔30مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) فری اینڈ فیرالیکشن نیٹ ورک (فافن )اوراس کے رکن تنظیم سینٹرفارپیس اینڈ ڈویلپمنٹ (سی پی ڈی )نے نومبر2017 سے اپریل 2018 ء تک ڈسٹرکٹ کوئٹہ میں شناختی کارڈ سے محروم 58000 ہزارخواتین کی نشاندہی کی اورخواتین کوشناختی کارڈ بنوانے میں معاونت فراہم کی تاکہ ان کابطورووٹرانداراج ہوسکے تاہم 2017 کی انتخابی فہرست کے مطابق صوبہ بلوچستان میں کل رجسٹرڈ وونرز کی تعداد 37 لاکھ 2 ہزار چارسو چالیس ہے جن میں 21 لاکھ 37 ہزار اٹھانوے مرد اور15 لاکھ 65 ہزارتین سوبیالیس خواتین شامل ہیں اس طرح مرد رجسٹرڈ ووٹرز کے مقابلے میں بلوچستان میں رجسٹر ڈ ووٹرزخواتین کی تعداد 16 فیصد کم ہیں ابھی تک ضلع کی انتخابی فہرستوں میں غیر موجودخواتین کی تعداد 1 لاکھ کے قریب ہیں اوران خواتین کے نام ووٹرفہرستوں میں شامل نہیں جس کی بڑی وجہ شناختی کارڈکانہ ہوناہے سنیٹرفارپیس اینڈ ڈویلپمنٹ (سی پی ڈی) کی طرف سے سول سائٹی کے نمائندوں اوردیگرشرکاء کواس حوالے سے مکمل تفصیلات فراہم کی گئیں۔

(جاری ہے)

الیکشن کمیشن آف پاکستان کارڈ بنوانے اورووٹ کے اندراج کی اس خصوصی مہم کے دوران فافن کی رکن تنظیم سنیٹر فارپیس اینڈ ڈویلپمنٹ (سی پی ڈی )کے کارکنان نے ضلع (210 ) شماریاتی بلاکس میں گھر گھر جاکرشناختی کارڈ سے محروم اہل خواتین کی نہ صرف نشاندہی کی بلکہ الیکشن کمیشن اورنادر احکام کے تعاون سے ان خواتین کے شناختی کارڈ بناے ووٹ کے اندراج کیلئے انہیں گھر کی دہلیز پر قریبی رجسٹریشن کاونٹر پرسہولت فراہم کرانے میں معاونت کی سینٹر فارپیس اینڈ ڈویلپمنٹ (سی پی ڈی ) کے مطابق وقتی اور2 موبائل وینز جزوقتی دستیاب رہیں جبکہ ضلع بھر کے 7 رجسٹریشن کاونٹرز پرنادر اہلکاروں نے بھرپورتعاون کیا۔

اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے سنیٹرفارپیس اینڈویلپمنٹ (سی پی ڈی ) کے پراجیکٹ مینجر نے الیکشن کمیشن اورنادرا کے حکام سے اپیل کی کہ سنیٹرفارپیس اینڈڈویلپمنٹ (سی پی ڈی ) کی طرف سے نشاندہی کردہ جن خواتین کے شناختی کارڈابھی تک نہیں بن سکے ان کے شناختی کارڈ بنانے پرخصوصی توجہ دی جائے تاکہ وہ بھی اس سال ہونے والے عام انتخابات حق رائے دہی استعمال کرسکیں۔