ملک کی پہلی فلم اور ثقافت پالیسی کی کابینہ سے منظوری تاریخی اقدام ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک میں فلمی صنعت کی بحالی ، قومی ثقافت کے تحفظ اور فروغ کیلئے ٹھوس بنیاد رکھ دی،گذشتہ 30، 40 سالوں سے جاری دہشت گردی میں ہماری مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام نے قربانیاں دیں، وہیں پر دہشت گردی نے ہماری ثقافت، فلم انڈسٹری اور پاکستان کے مثبت تشخص کا بھی قتل کیا، کلچر پالیسی میں آرٹسٹ کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے آرٹسسٹ اسسٹنٹس فنڈ قائم کیا گیا، ویژول آرٹ کا فروغ، قومی ثقافت اور ورثہ کو محفوظ بنانا شامل ہے،کلچر پالیسی تھیٹر، میوزک،پر فارمنگ آرٹ ، اثار قدیمہ کو محفوظ بنانے اور بحالی پر فوکس کرتی ہے، پالیسی میں آرٹ اینڈ کرافٹ،علاقائی زبانوں کا فروغ، تحفظ اور اپنی ثقافت کو محفوظ بنا کر عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کر نا ہے

2018ء کے عام انتخابات میں عوام کے انگوٹھوں کو زبان اور اختیار ملے گا تو وہ کارکردگی کی بنیاد پر مینڈیٹ پاکستان مسلم لیگ ن کو ہی دیں گے ،پی ٹی آئی نے نگران وزیراعلی کا نام دینے کے بعد پھر واپس لے لیا پی ٹی آئی حرکت و سکنا ت میں سرفہرست جھوٹ،دوسرے نمبر پر یوٹرن لیناہے، یہ الزاما ت اور انتشار کی ماہر جماعت بن چکی ہے ،حکومتیں چلانا ،عوام کی نمائندگی کرنا مذاق یا گڈی ،گڈے کا کھیل نہیں ہے ،گذشتہ پانچ سالوں کے دوران بھی اسی طرح کے یوٹرن لئے گئے ،پی ٹی آئی نے جلد بازی میں دھرنا ، وفاقی دارالحکومت کو لاک ڈائون کرنے ،پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملہ بھی جلد بازی میں کیا ہے ، نیب سمیت کسی بھی ادارے کو ریکارڈ لینا ہے تو ضابطے اور رولز کے تحت ادارے کے سربراہ کو تحریری طور پر لکھیں ،اطلاعات تک رسائی بل میں بھی معلومات حاصل کرنے کا ضابطہ کار موجود ہے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی پہلی قومی ثقافت و فلم پالیسی کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ

بدھ مئی 22:37

ملک کی پہلی فلم اور ثقافت پالیسی کی کابینہ سے منظوری تاریخی اقدام ہے، ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک کی پہلی فلم اور ثقافت پالیسی کی کابینہ سے منظوری تاریخی اقدام ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک میں فلمی صنعت کی بحالی اور قومی ثقافت کے تحفظ اور فروغ کیلئے ٹھوس بنیاد رکھ دی،گذشتہ 30، 40 سالوں سے جاری دہشت گردی میں ہماری مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام نے قربانیاں دیں، وہیں پر دہشت گردی نے ہماری ثقافت، فلم انڈسٹری اور پاکستان کے مثبت تشخص کا بھی قتل کیا، کلچر پالیسی میں آرٹسٹ کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی دیتے ہوئے آرٹسسٹ اسسٹنٹس فنڈ قائم کیا گیا، ویژول آرٹ کا فروغ، قومی ثقافت اور ورثہ کو محفوظ بنانا شامل ہے،کلچر پالیسی تھیٹر، میوزک،پر فارمنگ آرٹ ، اثار قدیمہ کو محفوظ بنانے اور بحالی پر فوکس کرتی ہے، پالیسی میں آرٹ اینڈ کرافٹ،علاقائی زبانوں کا فروغ، تحفظ اور اپنی ثقافت کو محفوظ بنا کر عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کر نا ہے، 2018ء کے عام انتخابات میں عوام کے انگوٹھوں کو زبان اور اختیار ملے گا تو وہ کارکردگی کی بنیاد پر مینڈیٹ پاکستان مسلم لیگ ن کو ہی دیں گے ،پی ٹی آئی نے نگران وزیراعلی کا نام دینے کے بعد پھر واپس لے لیا ،پی ٹی آئی حرکت و سکنا ت میں سرفہرست جھوٹ،دوسرے نمبر پر یوٹرن لیناہے، یہ الزاما ت اور انتشار کی ماہر جماعت بن چکی ہے ،حکومتیں چلانا ،عوام کی نمائندگی کرنا مذاق یا گڈی ،گڈے کا کھیل نہیں ہے ،گذشتہ پانچ سالوں کے دوران بھی اسی طرح کے یوٹرن لئے گئے ،پی ٹی آئی نے جلد بازی میں دھرنا ، وفاقی دارالحکومت کو لاک ڈائون کرنے ،پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملہ بھی جلد بازی میں کیا ہے ،نیب سمیت کسی بھی ادارے کو ریکارڈ لینا ہے تو ضابطے اور رولز کے تحت ادارے کے سربراہ کو تحریری طور پر لکھیں ،اطلاعات تک رسائی بل میں بھی معلومات حاصل کرنے کا ضابطہ کار موجود ہے۔

(جاری ہے)

وہ بدھ کو پی آئی ڈی میں پہلی قومی ثقافتی و فلم پالیسی کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دے رہیں تھیں۔ڈی جی پی این سی اے جمال شاہ ،پی آئی او سلیم بیگ بھی ان کے ہمراہ تھے۔وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ کوئی بھی اکیلے مسائل حل نہیں کرسکتا ، سب کو ملکر آگے کی طرف دیکھنا اور چلنا ہوگا ،مسائل کا حل صرف اور صرف جمہوریت ہی ہے ،2009-2013 اور 2013-18میں جمہوری حکومتیں قائم رہیں بلخصوص گذشتہ پانچ سالوں کے دوران حکومتی کاوشوں سے جو ترقی اور تبدیلی آئی اسکی ماضی میں مثال نہیں ملتی ،موجودہ حکومت نے توانائی بحران اور دہشت گردی جیسے چیلنجز پر قابو پایا ،،سی پیک کے زریعے معاشی ترقی ،بیرونی سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں حکومتی کارکردگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2013میں دہشت گردی کے واقعات اور 2018میں دہشت گردی کے واقعات میں واضح فرق ہے ،ملک بھر میں امن قائم ہونے سے بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے ،تمام تر چلینجز کے باوجود حکومت نے تعمیر و ترقی کے منصوبوں کے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں ،ملک میں اسی طرح جمہوریت کو تقویت ملتی رہی تو عالمی سطح پر پاکستان کا تاثر بہتر اور مثبت تشخص اجاگر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے وزارت اطلاعات کی جو ذمہ داری دی گئی تھی اسے احسن طریقے سے سرانجا م دیا اورحکومت کی ترجمانی کی ،اگر اقدار اور تہذیب کا خیال رکھتے ہوئے سیاست کی جائے تو نوجوان بچے اور بچیاں بھی سیاست میں آنا پسند کرینگے ،اپوزیشن کو بھی یہ ہی پیغا م ہے کہ وہ اختلاف رائے پارلیمنٹ کے اندر رکھیں تو بہتری پر کام ہو سکتا ہے لیکن اگر یہ ہی اختلاف ڈی چوک ،دھرنوں ،،پارلیمنٹ ،پی ٹی وی پر حملوں میں منتقل ہوجائے تو پھر یہ عوام ،ملک اور جمہوریت کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ چیئرمین پیمرا کی تقرری کا عمل سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع ہوا اور مخصوص مدت کے عرصے میں یہ عمل مکمل کیا گیا ،اب الیکشن کمیشن نے وضاحت مانگی ہے تو معاملہ دو آئینی اداروں میں ہے۔انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والے وفاق اور صوبوں کی کارکردگی کا اپنے صوبوں کی کارکردگی کے ساتھ موازنہ کر لیں ،دو ہفتوں میں وفاق اور صوبوں میں جتنے بھی افتتاح ہو رہے ہیں وہ حقیقت میں عوامی خدمت کے منصوبے ہیں اور ان کے ثمرات عوام کو ملنے شروع ہوگئے ہیں ،باقی صوبے افتتاح کی تختیاں ہی دکھا دیں ،پی ٹی آئی نے گذشتہ پانچ سال کے پی کے کے عوام کے حقوق پامال کیے ہیں ،،کرپشن کی بات کر نے والوں نے اپنے صوبے میں کرپشن پکڑنے والے ادارے احتساب کمیشن کو ہی تالا لگا دیا۔

کلچرو فلم پالیسی کے حوالے سے مریم اورنگزیب نے بتایا کہ گذشتہ روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں پہلی قومی کلچرو فلم پالیسی کی منظوری دی ہے ،سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے ویژن کے تحت قومی ثقافت اور ورثے کو مربوط کرنے کے لئے سنیجدہ کوششیں کیں گئیں ،18ویں ترمیم کے بعد جب صوبوں کو خودمختاری دی گئی تو چاروں صوبوں ،آزادکشمیر ،گلگت بلتستان کے عوام کو قومی ثقافت ہی جوڑ سکتی ہے ،محمد نواز شریف نے سینیٹر پرویز رشید کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں عطا ء الحق قاسمی ،جمال شاہ ،فوزیہ سعید اور ملک بھر سے کلچر کے حوالے ماہرین کو شامل تھے ،اس کمیٹی نے ملک بھر میں 100سے زائد ماہرین کے ساتھ صوبائی سطح پر مشاورت کی۔

انہوں نے بتایا کہ پرفامنگ آرٹ اور ویژول آرٹ کو نئی نسل کے لئے کلچر پالیسی میںمحفوظ کیا گیا ہے،،ٹیکنالوجی کے باعث نئی نسل ثقافت ،تہذیب اور روایات سے دور ہوتی جارہی ہے اس وجہ سے نئی نسل میں عدم پرداشت زیادہ ہے ،اختلاف رائے اگر دلیل کی بنیاد پر ہو تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا لیکن جب اختلاف رائے دشمنی بن جائے تو اس سے نقصانات ہوتے ہیں ،جن قوموں میں برادشت نہیں ہوت وہ ترقی نہیں کرسکتیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے نصاب میں ثقافت کا عنصرنہیں تھا ،کلچر پالیسی نصاب میں کلچر کو شامل کرنے کی بات کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ما ضی میں پاکستان فلم بنانے والے بڑے ممالک کی فہرست میں شامل تھا جس سے پاکستان کی ایک الگ شناخت تھی ،عالمی نشریاتی ادارے بھی پاکستان کو ثقافتی حوالے سے دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے ،موجودہ حکومت کی کاوشوں کی بدولت دہشت گردی کا بھر پور مقابلہ کیا گیا ،ہم نے شہید بچوں کے لہوں سے امیدکے چراغ جلائے ہیں۔

فلم پالیسی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ فلم کو ایک انڈسٹری کا درجہ دے دیا گیا ہے ،،فلم بنانے والوں کو فنانسنگ کی سہولت دی جائے گی۔انہوںنے کہا کہ فلم اکیڈمی کا قیام بھی جلد ہو جائے گا ،،فلم بنانے کے سامان پر درامدی ڈیوٹی بھی کم کر کے تین فیصد کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ فلم فنانس فنڈ ‘ قومی فلم و ڈرامہ آرکائیو /ڈیٹا بیس کا قیام اور باقا عدہ باکس آفس ریٹنگ میکنزم تشکیل دینے کی تجاویز فلم پالیسی کا حصہ ہے۔

فلم بنانے والوں کو پاکستان کے دلکش اور خوبصورت مقامات تک رسائی فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آ کر فلم بنانے والوں کو بھی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ چائنہ میں بھی سینیما پر پاکستان کی فلم اور ڈرامے کو چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔