ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس‘ صدر مملکت کی تنخواہ، الاؤنسز اور دیگر مراعات میں اضافے کے ترمیمی بل 2018کا تفصیل سے جائزہ لیاگیا

جمعرات مئی 00:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلا س میں صدر مملکت کی تنخواہ، الاؤنسز اور دیگر مراعات میں اضافے کے ترمیمی بل 2018کا تفصیل سے جائزہ لیاگیا۔ قائمہ کمیٹی نے بل کا تفصیلی جائزہ لیکر کثرت رائے کی بنیاد پر بل کی منظوری دے دی۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک نے کہا کہ رولز کے مطابق منی بل قومی اسمبلی سے سینٹ اجلاس میں پیش کیا جاتا ہے جسے متعلقہ وزیر اجلاس میں پیش کرتا ہے۔ اراکین سینٹ بل پر بحث پیش کرتے ہیں اور سفارشات کے لیے قائمہ کمیٹی کو ریفر کیا جاتا ہے کہ 14دن کے اندر اگر اراکین کی طرف سے سفارشات ہیں تو شامل کیا جائے۔

(جاری ہے)

یہ بل قومی اسمبلی میں28مئی 2018کو پیش ہوا اور سینٹ کو 29مئی کو بھیج دیا گیا۔

چیئرمین سینٹ نے ترمیمی بل قائمہ کمیٹی خزانہ کو سفارشات کے لیے بھیج دیا۔وزارت قانون کے جوائنٹ سیکرٹری شیخ سرفراز نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ 1973کے آئین کے تحت گنجائش نکل سکتی تھی مگر سینٹ رولز نے ختم کردی ہے۔ بل کا سینٹ اجلاس میں پیش(Lay) ہونا ضروری تھا اور قائمہ کمیٹی کے پاس آنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے سینٹ اجلاس میں پیش ہوتا۔ اراکین کمیٹی سینیٹر مشاہد اللہ خا ن اور سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ کیوں کہ یہ بل چیئرمین سینٹ نے قائمہ کمیٹی کو منظوریا نا منظور کرنے کیلئے بھیجا ہے اور صدر مملکت کی تنخواہ دیگر سرکاری ملازمین سے زیادہ ہونی چاہیے اس لیے قائمہ کمیٹی اس بل کو کثرتِ رائے کی بنیاد پر منظور کرے جس پر قائمہ کمیٹی نے بل پراکثریت رائے کی وجہ سے بل کی منظوری دے دی۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرزمشاہد اللہ خان، دلاور خان کے علاوہ سپیشل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن شائستہ سہیل و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔