سعودی رکن شوریٰ کونسل لینا المعینا کاجنسی ہراسیت کو فوجداری جرم قرار دینے کا خیر مقدم

جمعرات مئی 11:10

ریاض ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کی رکن لینا المعینا نے مملکت میں جنسی ہراسیت کو ایک فوجداری جرم قرار دینے کا خیر مقدم کیا ہے۔۔سعودی شوریٰ کونسل نے خواتین کو ڈرائیونگ اجازت دینے سے چند ہفتے قبل ہی اس قانون کی منظوری دی ہے۔رکن شوریٰ کونسللینا المعینا نے العربیہ ٹی وی سے ایک انٹرویو میں کہا کہ جنسی ہراسیت کو فوجداری جرم قرار دینابھی سعودی عرب میں وژن 2030ء کے تحت سماجی تبدیلیوں اور اصلاحات کے لیے کی جانے والی مربوط کوششوں کا حصہ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے خواتین کو کاریں چلانے کی اجازت دینے سے متعلق فرمان پر جون سے عمل درآمد کا آغاز ہوگا۔اس سے قبل شوریٰ کونسل نے جنسی ہراسیت کو ایک فوجداری جرم قرار دے دیا ہے۔

(جاری ہے)

یہ اقدام ڈرائیونگ کی خواہاں خواتین کو تحفظ مہیا کرنے کے لیے ضروری تھا اور اب خواتین کو ہراساں کرنے کے مرتکبین اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔انھوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت سائبرکرائمز میں ہراسیت کا معاملہ بھی شامل ہے۔اس کی وضاحت ہراسیت کی عمومی تعریف میں کردی گئی ہے اور اس سے مراد نازیبا جسمانی یا زبانی اظہار ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قانون کا مقصد کسی فرد کی شخصی زندگی ، آزادی اور وقار کو تحفظ مہیا کرنا ہے۔اسلامی شریعت میں بھی اس کی ضمانت دی گئی ہے۔

متعلقہ عنوان :