مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں قومی نظام میں 11 ہزار 461 میگاواٹ بجلی شامل ہوئی،

بجلی کی پیداواری استعداد 28 ہزار 704 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، وزارت توانائی

جمعرات مئی 12:11

مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں قومی نظام میں 11 ہزار 461 میگاواٹ بجلی شامل ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں قومی نظام میں 11 ہزار 461 میگاواٹ بجلی شامل ہوئی ہے۔ وزارت توانائی پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق 2013ء میں بجلی کی پیداواری استعداد 18 ہزار 753 میگاواٹ تھی جو اب 2018ء میں 28 ہزار 704 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے جس میں پن بجلی،، تیل،، گیس، آر ایل این جی، کوئلہ، جوہری اور قابل تجدید توانائی سے حاصل ہونے والی بجلی شامل ہے۔

2013ء کے مقابلہ میں2018ء میں تقریباً 6 ہزار میگاواٹ زائد بجلی پیدا ہو رہی ہے اور پانچ سال کے عرصہ میں بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ طلب بھی بڑھ رہی ہے۔ اپریل 2013ء میں 6.3 ارب یونٹ استعمال ہوئے جبکہ 2018ء میں 9.2 ارب یونٹ استعمال ہوئے اور45 فیصد اضافی بجلی کا استعمال کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

بجلی کی طلب اپریل 2013ء میں یہ 15 ہزار 816 میگاواٹ تھی جبکہ اپریل 2018ء میں یہ بڑھ کر 20 ہزار 846 میگاواٹ ہو گئی ہے۔

2013ء میں پانی سے 5 ہزار 99 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی تھی، رواں سال 3 ہزار 90 میگاواٹ پن بجلی پیدا ہورہی ہے، آبی ذخائر میں پانی کی آمد بڑھنے سے پن بجلی کی پیداوار میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے دوسرے یونٹ سے بھی بجلی کی پیداوار شروع ہو گئی ہے۔ پنجاب میں بھکی پاور پلانٹ، حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ اور بلو کی پاور پلانٹ سے ایل این جی کے ذریعے بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔

نندی پور پاور پراجیکٹ کی تکمیل سے بھی بجلی کی فراہمی میں بہتری آئی ہے۔ دیا میر بھاشا ڈیم سے 4500میگاواٹ اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے 4120میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی اور یہ منصوبہ دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ ان دونوں منصوبوں کے لئے فنڈز کے حصول کے لئے بھی کوششیں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ سولر اور ونڈ منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھنے سے رواں سال کے اختتام تک ان منصوبوں سے بھی ایک ہزار میگاواٹ اضافی بجلی سسٹم میں آجائے گی۔