عرب ممالک سے متوازن تعلقات کا قیام چاہتے ہیں،عراقی شیعہ رہنماء مقتدیٰ الصدر

کویت کی دعوت پر مقتدیٰ الصدرکا دوروزہ دورہ مکمل،کویتی قیاد ت سے دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے پر بات چیت

جمعرات مئی 12:18

بغداد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) حال ہی میں عراق میں ہونیوالے پارلیمانی انتخابات میں غیرمتوقع طورپر کامیابی حاصل کرنے والے شیعہ مذہبی رہ نما مقتدیٰ الصدر نے اپنا دو روزہ دورہ کویت مکمل کرنے کے بعد واپس روانہ ہوگئے ۔عرب ٹی وی کے مطابق مقتدیٰ الصدر دو دن تک کویت میں رہے جہاں انہوں نے کویتی قیادت سے باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے پر بات چیت کی۔

مقتدیٰ الصدر کی ویب سائیٹ پران کی طرف سے ایک بیان شائع کیاگیا جس میں انہوں نے بتایا کہ انہیں کویت کی حکومت کی طرف سے باضابطہ دورے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس دورے میں انہوں نے امیر کویت الشیخ صباح الاحمد الجابر الصباح سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ملکوں اور اقوام کے درمیان ماضی کی تلخ یادوں کو فراموش کرتے ہوئے ترقی کے سفرمیں مل جل کر آگے بڑھنے پر بات چیت کی گئی۔

(جاری ہے)

الصدر کے دفتر کے ایک عہدیدار نے کہا کہ مقتدیٰ الصدر کے دورہ کویت کا بنیادی مقصد دونوں برادر ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ الصدر تمام ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کے قیام کے خواہاں ہیں۔ وہ خلیجی عرب ملکوں کیساتھ بھی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔مقتدیٰ الصدر کے مقرب عہدیدار نے کہا کہ الصدر تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ دوستانہ مراسم کو فروغ دے کر متوازن انداز میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ان کے دورہ کویت کا مقصد بھی عرب ممالک بالخصوص خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا۔

متعلقہ عنوان :