بنگلہ دیش میں فورسزکے چھاپے جاری ، مزید چودہ منشیات اسمگلر ہلاک

چھاپے کے دوران موقع سے بڑی تعداد میں منشیات اور کچھ ہتھیار بھی ضبط کر لیے گئے،ریپڈ ایکشن بٹالین

جمعرات مئی 13:31

ڈھاکہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) بنگلہ دیش میں انسداد منشیات کی ملک گیر مہم کے دوران مزید کم از کم چودہ مشتبہ ڈرگ ڈیلرز کو ہلاک کر دیا گیا۔ ڈھائی ہفتے قبل شروع کی گئی مہم کے دوران اب تک منشیات کا کاروبار کرنے والے ایک سو بیس افراد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق پولیس نے آج بتایا کہ اس جنوبی ایشیائی ریاست میں منشیات کے کاروبار کے خلاف ملک گیر مہم پوری شدت سے جاری ہے۔

اس دوران ملکی سکیورٹی فورسز کی تازہ ترین کارروائی میں منشیات کا کاروبار کرنے والے مزید کم از کم 14 مشتبہ افراد پولیس کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ اس طرح ڈھائی ہفتے قبل 12 مئی کو شروع کی گئی اس اینٹی نارکوٹکس مہم کے دوران مارے جانے والے ڈرگ ڈیلرز کی مجموعی تعداد بھی اب 120 ہو گئی ہے۔

(جاری ہے)

میڈیارپورٹس کے مطابق جنوب مغربی بنگلہ دیشی ضلع جیسور میں گولی مار دی گئی۔

اس کے علاوہ کوکس بازار، چٹاگانگ، کومیلا اور سراج گنج سمیت متعدد اضلاع میں بھی کم از کم ایک ایک ڈرگ ڈیلر سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ اس کے علاوہ حکام کو ماگورا نامی جنوب مغربی ضلع سے تین ایسے افراد کی لاشیں بھی ملیں، جو مقامی سطح پر منشیات کی تجارت کا کام کرتے تھے۔۔بنگلہ دیش میں انسداد منشیات کی اس ملک گیر مہم میں مرکزی کردار جرائم کی روک تھام کے لیے سرگرم ریپڈ ایکشن بٹالین یا آر اے بی نامی فورس کے دستے ادا کر رہے ہیں۔

اس فورس کی طرف سے بتایا گیا کہ رات گئے مارے جانے والے ڈرگ ڈیلرز میں کافی بڑے پیمانے پر منشیات کی تجارت کرنے والا عطاالرحمان نامی وہ ڈیلر بھی شامل ہے، جس کی عمر 46 برس تھی۔ پولیس کے مطابق یہ تینوں ملزم آر اے بی کے دستوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے۔ریپڈ ایکشن بٹالین کے کمانڈر منظور کبیر نے صحافیوں کو بتایاکہ عطاالرحمان اور اس کے دو ساتھی ڈیلر اس وقت مارے گئے، جب اس گینگ کے ارکان نے ڈھاکا میں ایک گھر پر چھاپے کے دوران سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کر دیا تھا، جس کے بعد اطراف کے مابین فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس چھاپے کے دوران موقع سے بڑی تعداد میں منشیات اور کچھ ہتھیار بھی ضبط کر لیے گئے۔