حوثیوں کا صنعاء کے سرکاری ملازمین کو زبردستی دوسرے شہروں میں جنگ لڑنے کا حکم

الحدیدہ گورنری اور دوسرے محاذوں پر لڑائی میں حصہ لیں تو تنخواہ فوری اداکی جائے گی،حوثیوں کا سرکاری ملازمین کو لالچ

جمعرات مئی 13:31

صنعائ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) حوثی باغیوں کی جانب سے یمن میں جاری جنگ میں عام شہریوں کو جھونکنے کی سازشیں جاری ہیں۔ حوثی ملیشیا نے دارالحکومت صنعاء کے سرکاری ملازمین کو بھی جنگ کا ایندھن بنانے کی اور انہیں زبردستی محاذ جنگ پر جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق حوثی شدت پسندوں کی طرف سے صنعاء کے سرکاری اداروں کے ملازمین سے کہا گیا کہ وہ الحدیدہ اور دوسرے شہروں میں جاری لڑائی میں شمولیت اختیار کریں۔

یمن کے ایک ذمہ دار سیکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ حوثی باغیوں نے فوجیوں، ٹریفک پولیس اور پولیس کے دوسرے شعبوں میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کو کئی گروپوں میں تقسیم کیا ہے اور ان کی درجہ بندی کے ساتھ انہیں محاذ جنگ پر جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

ذرائع کا کہنا تھا کہ حوثی باغیوں کی طرف سے سرکاری ملازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ الحدیدہ گورنری اور دوسرے محاذوں پر لڑائی میں حصہ لیں تو ان کی تنخواہ فوری ادا کردی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری سیکیورٹی اداروں کے ملازمین نے حوثیوں کی طرف سے جنگ میں جھونکے جانے کی سازشین مسترد کردی ہیں۔ سرکاری ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ دو سال سے حوثیوں کے زیرتسلط علاقوں میں اپنی ڈیوٹی بھی انجام دے رہے ہیں مگرانہیں تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہی ہیں۔

متعلقہ عنوان :