سانحہ وولر کے متاثرین بارہ برس بعد بھی انصاف کے منتظر

جمعرات مئی 13:46

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں 12برس قبل بھارتی بحریہ کے اہلکاروں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے وولر جھیل میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 30مئی 2006کووولر جھیل میں بھارتی بحریہ کی اہلکاروں کی غفلت کی وجہ سے ہندواڑہ کے ایک سکول کے بیس بچوں سمیت بائیس افراد ڈوب کر جاںبحق ہو گئے تھے جبکہ اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر بھارتی پولیس کی فائرنگ سے دو اورکشمیری نوجوان بھی شہید ہو گئے تھے ۔

کٹھ پتلی انتظامیہ نے اس واقعے کی تحقیقات کے احکامات جاری کئے تھے اور انکوائری افسر نے بھارتی بحریہ کے اہلکاروں آفیسر انچارج نیول ڈیپارٹمنٹ لیفٹیننٹ کے ۔ایس ۔نہرا ،کرشن کھلوی،بوٹ آپریٹر راج رام ، گنیشن اور سکول کے پرنسپل کو واقعہ کا ذمہ دارٹھہرایا تھا تاہم مذکورہ افسر کے خلا ف کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔

(جاری ہے)

شہداء کی 12ویں برسی کے موقع پر ہندواڑہ میں ایک تعزیتی تقریب کا اہتمام کیا گیا جبکہ مزار شہدا ہندواڑہ میں فاتحہ خوانی کی گئی۔

ہندواڑہ کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ 30مئی 2006کوہندواڑہ اور اس کے مضافاتی دیہات میںسکول کے بیس طلبہ کے وولر جھیل میں ڈوب کر جاں بحق ہونے کی خبر پھیلتے ہی کہرام مچ گیا ۔ مذکورہ سکول کے طلباء وٹلب کی سیر پر تھے کہ اس دوران نیوی کے اہلکارو ں نے سکول کے طلبہ کوجھیل کی سیرکرانے کیلئے کشتی میں سوار کیا تاہم نیوی کے اہلکارو ں کی مبینہ غفلت شعاری کی وجہ سے کشتی الٹ گئی اور معصوم طالب علم جھیل میں ڈوب کر جاںبحق ہو گئے ۔

واقعہ کے بعد پوری وادی سوگ میں ڈوب گئی جبکہ وٹلب اور اس کے ملحقہ علاقوں کے لوگو ں نے اس سانحہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کیلئے علاقے میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے ۔سانحہ میں جا ں بحق ہوئے طالب علمو ں کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کیلئے 30مئی کا دن قیامت سے کم نہیں کیو نکہ اس روز ان کے لخت جگر ہمیشہ کیلئے ان سے چھن گئے۔وان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے تحقیقات کی یقین دہانی کرائی تھی اور ملو ث افراد کے خلا ف سخت کاروائی کا اعلان بھی کیاتھاتاہم بارہ برس گزرجانے کے بعد بھی نیوی کے کسی اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی نہیںکی گئی ہے ۔

سانحہ میں جا ں بحق ہوئی ایک طالبہ صد ف محی الدین کے والد غلام محی الدین نے صحافیوںکوبتایا کہ انہیںآج تک انصاف نہیں مل سکا ہے جوکہ ایک المیہ ہے۔