بہت ہی تاریخی دن ہے،ایسا تاریخی دن کبھی نہیں دیکھا ‘منتخب حکومت کا5سالہ مدت پوری کرنا ملک اور جمہوریت کے لیے خوش آئند ہے۔نوازشریف

سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کی جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءپرجرح‘ملزم سے 342کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات مئی 13:46

بہت ہی تاریخی دن ہے،ایسا تاریخی دن کبھی نہیں دیکھا ‘منتخب حکومت کا5سالہ ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔31 مئی۔2018ء) سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ آج بہت ہی تاریخی دن ہے،ایسا تاریخی دن کبھی نہیں دیکھا ‘منتخب حکومت کا5سالہ مدت پوری کرنا ملک اور جمہوریت کے لیے خوش آئند ہے۔۔اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ آج بہت ہی تاریخی دن ہے،ایسا تاریخی دن کبھی نہیں دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ آج 80 کے قریب پیشیاں ہوچکی ہیں ‘آج کے دن سب کچھ ہی تاریخی ہے۔صحافی نے مزید سوال کیا کہ کیا عمران خان نے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی نامزدگی پر یوٹرن نہیں لیا؟ جس پر میاں نوازشریف نے کچھ نہیں کہا صرف مسکرا دیے۔دوسری جانب احتساب عدالت میں مسلم لیگ( ن) کے قائدمیاں نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت جاری ہے‘ یفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکررہے ہیں۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف عدالت میں موجود ہیں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، رانا ثنااللہ اور پرویز رشید بھی ان کے ہمراہ ہیں۔سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءپرجرح کررہے ہیں۔جے آئی سربراہ واجد ضیاءنے سماعت کے آغاز پرعدالت کوبتایا کہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے مالی سال کا آغازیکم سے 30جون تک ہوتا ہے، ٹیکس سرٹیفکیٹ کے لیے یکم جولائی 2010 سے 30جون2011 کاعرصہ بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5جولائی 2010 سے 30جون 2011 تک ڈالرحسین نوازکی طرف سے تحفہ تھے، بینک اسٹیٹمنٹ کے مطابق 11لاکھ 50ہزار 459 امریکی ڈالرموصول ہوئے تھے۔واجد ضیاءنے بتایا کہ 18اکتوبر 2012 تک یہ رقم امریکی ڈالر اکاﺅنٹ میں موجود رہی، نواز شریف نے رقم ویلتھ اسٹیٹمنٹ مالی سال 2010 ،2011 میں ظاہرکرنا تھی۔استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ 2011کی اسٹیٹمنٹ کا مجھے یاد ہے وہ امریکی ڈالرمیں نہیں روپوں میں تھی، معلوم نہیں رقم روپوں میں ظاہرکرنے کے لیے کیا کرنسی ایکسچینج ریٹ لاگوکیا۔

جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ 30جون2011 کوجوکرنسی ریٹ ہوگا شاید وہی لاگوکیا ہوگا، جے آئی ٹی نے اس بات کا تعین نہیں کیا امریکی ڈالرپرکیا ریٹ لاگوکیا گیا۔واجد ضیاءنے بتایا کہ نوازشریف کے ڈالر اکاﺅنٹ میں اسٹیٹمنٹ روپوں میں بطورتحائف ظاہرکی گئی، یہ رقم حسین نوازکی طرف سے بطورتحفہ بھیجی گئی۔انہوں نے کہا کہ 19اکتوبر 2012 کوتین چیکس کے ذریعے رقوم نکلوائی گئیں، ان چیک کے ذریعے 9 لاکھ ڈالرکی رقم نکلوائی گئی جبکہ 15 نومبر2012 کو2 لاکھ ڈالرکی رقم نکلوائی گئی۔

استغاثہ کے گواہ نے بتایا کہ ان چیکس میں ادائیگی پاکستانی روپوں میں کی گئیں، تمام چیکس سے ادائیگی نوازشریف کے دوسرے اکاﺅنٹ میں ہوئی، جس تاریخ کوادائیگی ہوئی ڈالرریٹ کے مطابق کرنسی ایکسچینج کا اطلاق ہوا۔۔نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیوں بول رہے ہیں، واجد ضیاءبچے تونہیں ہیں، جج صاحب بیٹھے ہیں، واجد ضیاءخود موجود ہیں یہ کیوں بول رہے ہیں۔

جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ سے ایکسچینج ریٹ کا تعین کیا، نوازشریف نے اسٹیٹمنٹ میں رقم درست ایکسچینج ریٹ کا اطلاق کرلے ظاہرکی۔استغاثہ کے گواہ نے عدالت کوبتایا کہ ہمیں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی، ایکسچینج ریٹ روزانہ کی بنیاد پرتبدیل ہوتے ہیں۔واجد ضیاءپر جرح مکمل ہونے پرتفتیشی افسر کا بیان قلمبند کیا جائے گا جس کے بعد ملزم نواز شریف کا 342 کے تحت بیان قلمبند کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے اپنا بیان قلمبند کروایا تھا جس کے بعد عدالت نے سماعت 5 جون تک کے لیے ملتوی کردی تھی۔ یاد رہے کہ رواں ماہ 15 مئی کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ حسین نواز نے ہل میٹل کا 88 فیصد منافع نوازشریف کو بھیجا۔