چیف جسٹس کا اصغر خان کیس کے فیصلے پر عمل درآمد سے کے لیے کابینہ کا اجلاس نہ بلانے پر برہمی کا اظہار

آج اجلاس طلب کرکے کل عدالت میں جواب داخل کروانے کا حکم‘ سماعت کل تک ملتوی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات مئی 13:56

چیف جسٹس کا اصغر خان کیس کے فیصلے پر عمل درآمد سے کے لیے کابینہ کا اجلاس ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔31 مئی۔2018ء) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اصغر خان کیس کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق کابینہ کا اجلاس نہ بلانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس بلانے کے لیے آج شام تک مہلت دے دی ہے۔۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اصغر خان کیس کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اس دوران وفاقی حکومت کے وکیل اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے ) کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن بھی پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کابینہ نے اصغر خان کیس سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا، جس پر حکومتی وکیل نے بتایا کہ کابینہ اجلاس بلانے کے لیے مہلت دی جائے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اتنا سنجیدہ مسئلہ ہے اور حکومت کو کوئی فکر نہیں ہے، آج ہی اس معاملے پر اجلاس بلایا جائے اور فیصلے سے آگاہ کیا جائے۔

(جاری ہے)

وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آج دوپہر میں کابینہ کا اجلاس بلایا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ کل تک کابینہ اجلاس کے فیصلے سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا جائے۔۔عدالت میں سماعت کے دوران ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے بتایا کہ وہ اس معاملے میں تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے، بعد ازاں عدالت نے اصغر خان کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس 1996 میں دائر ہوا، جس کے مطابق اصغر خان نے اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان کی ہدایت پر ایوان صدر میں 1990 کے انتخابات کے لیے الیکشن سیل بنایا، جس میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے ان کی معاونت کی۔ 2012 میں کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے ریٹائر جرنیلوں اسلم بیگ، اسد درانی اور یونس حبیب کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور رقم وصول کرنے والے سیاستدانوں کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، صدر مملکت ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، صدر حلف سے وفا نہ کرے تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے، ایوان صدرمیں کوئی سیل ہے تو فوری بند کیاجائے۔