قومی اسمبلی نے ریکارڈ 187 بلز منظور کئے ہیں‘

خواتین اراکین نے ایوان کی کارروائی میں 60 فیصد تک حصہ لیا سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا قومی اسمبلی اجلاس سے الوداعی خطاب ایوان کی کارروائی میں بھرپور معاونت پر حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کا شکریہ ادا

جمعرات مئی 14:26

قومی اسمبلی نے ریکارڈ 187 بلز منظور کئے ہیں‘
اسلام آباد۔ 31 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں موجودہ حکومتی اور اپوزیشن سمیت تمام جماعتوں کے اراکین کی جانب سے ایوان کی کارروائی میں بھرپور معاونت کرنے اور ایوان کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں انتخابی مہم میں ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا‘ ہم سب پاکستانی ہیں اور ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے‘ اس قومی اسمبلی نے ریکارڈ 187 بلز منظور کئے ہیں‘ خواتین اراکین نے ایوان کی کارروائی میں 60 فیصد تک حصہ لیا جو ان کی شاندار کارکردگی کی عکاسی ہے۔

جمعرات کو موجودہ قومی اسمبلی سے الوداعی خطاب میں سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے پانچ سال پورے ہو رہے ہیں۔

(جاری ہے)

ہمارا ساتھ خوش اسلوبی سے اچھے طریقے سے گزرا۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے ہر طرح کا تعاون ملا اس پر ان کا مشکور ہوں۔ سیاسی وابستگی ہوتی ہے تاہم میری دل آزاری نہ ہائوس کے اندر نہ باہر ہوئی۔ ارکان نے حکومت کے احتساب‘ حکومت نے ہائوس بہتر انداز میں چلانے کی بھرپور کوشش کی‘ حکومت اور اپوزیشن گاڑی کے دو پہیے ہیں۔

ان کے بغیر گاڑی چلنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1977ء کی پہلی اسمبلی میں کل21 بل پاس ہوئے‘ 1985ء کی اسمبلی میں 47‘ 1988ء میں 13‘ 1990ء میں 60‘ 1993 میں 54 ‘ 1997ء کی اسمبلی میں 51 قانون پاس ہوئے۔ 2002ء میں 38 اور 2008ء کی اسمبلی میں 93 قانون پاس ہوئے جو قدرے بہتر قانون سازی تھی اب 2013ء کی پارلیمنٹ نی187 قانون منظور کئے۔ ان میں کمپنیز بل تاریخی تھا۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اس میں بھرپور کردار ادا کیا یہ ایک جامع بل تھا۔

57 نئے قانون‘ 6 فنانس‘ 5 آئینی ترامیم ‘ 82 موجودہ قانون میں ترامیم ہوئیں۔ نجی ممبران کے 30 بلز بھی منظور ہوئے۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے بطور لیڈر آف اپوزیشن کردار بھی ادا کیا اور ساتھ ساتھ اپنی جماعت کی نمائندگی بھی کی۔انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کی تنقید بھی برداشت کی‘ خورشید شاہ نے جو جمہوریت کے لئے کردار ادا کیا وہ تاریخی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی لیڈروں اور حکومت کی رہنمائی حاصل رہی۔ جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلاف رہا وہاں انہوں نے مجھے ذمہ داری دی اور مجھ پر اعتماد کیا۔ سپیکر نے کہا کہ چیف وہپس نے ایوان کی کارروائی میں اہم کردار ادا کیا۔ ریاض پیرزادہ نے ایوان میں بھرپور کردار ادا کیا اور اپنی حاضری یقینی بنائیں۔ اپوزیشن کی جانب سے واک آئوٹ ختم کرانے پر برجیس طاہر نے اہم کردار ادا کیا۔

سپیکر نے کہا کہ سید نوید قمر دلیل سے اور تحمل سے بات کرنے والے لیڈر ہیں ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے ایوان کی کارروائی چلانے میں مثبت کردار ادا کیا۔ اپنے سابق دوست عمران خان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے پارلیمنٹ میں کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے ایوان میں اہم کردار ادا کیا۔ صاحبزادہ طارق اللہ کا بھی شکرگزار ہوں جنہوں نے گلہ بھی شرافت کے دائرہ میں رہ کر کیا۔

محمود خان اچکزئی نے جمہوریت کے استحکام کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ صدر الدین راشدی‘ چوہدری پرویز الٰہی‘ غلام مرتضیٰ جتوئی‘ اعجاز الحق‘ عیسیٰ نوری‘ آفتاب خان شیرپائو‘ غلام احمد بلور نے مثبت کردار ادا کیا۔غلام احمد بلور نے ہمیشہ میری رہنمائی کی۔ سینئر پارلیمنٹرینز چوہدری خادم حسین‘ آفتاب شعبان میرانی‘ صاحبزادہ نذیر سلطان بھی یہاں موجود تھے۔

ایس اے اقبال قادری نے ایوان کی کارروائی چلانے میں معاونت کی۔ خواتین ارکان نے ایوان کی کارروائی میں 60 فیصد حصہ لیا۔ ان کی کارکردگی شاندار رہی۔ ساجدہ بیگم نے سب سے زیادہ بھرپور سوالات جمع کرائے۔ شیریں مزاری نے قراردادوں کے مسودہ جات میں معاونت کی۔ وومن کاکس ‘ ینگ پارلیمنٹرینز فورم‘ ایس ڈی جیز ٹاسک فورس میں مثبت کردار ملا۔ مولانا فضل الرحمان نے بھرپور رہنمائی کی۔

سپیکر قومی اسمبلی نے قائمہ کمیٹیوں اور پی اے سی کے چیئرمینوں کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ انہوں نے ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کی ہائوس اینڈ لائبریری کمیٹی اور دیگر کارروائی میں اہم کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے موجودہ اور سابق سیکرٹریز اسمبلی اور سیکرٹریٹ کے پورے سٹاف کی طرف سے بھرپور معاونت پر شکریہ ادا کیا۔ سپیکر نے فنانس کمیٹی میں اسد عمر کے کردار کو بھی سراہا۔

انہوں نے بتایا کہ سابق پارلیمنٹرینز فورم کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لئے ساڑھے پانچ کروڑ روپے سابق رکن قومی اسمبلی زمرد خان نے اپنے ذرائع سے جمع کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایوان کے تمام اراکین کا شکرگزار ہوں جنہوں نے پانچ سال مجھے یہاں برداشت کیا اور میری طرف سے غیر ارادی طور پر اگر کسی رکن سے کوئی زیادتی ہوئی ہو تو میں معذرت چاہتا ہوں۔

میں نے اپنی بساط کے مطابق کبھی بھی اپنی ذات کو ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ میں اللہ تعالیٰ کا کما حقہ شکر ادا نہیں کر سکتا کہ جو تعاون مجھے آپ کی جانب سے ملا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے پارلیمنٹ کی ساکھ بڑھانے میں کردار ادا کیا اور ہمیشہ مثبت اور اچھی رپورٹنگ کی۔ پی اے سی کی طویل نشستوں کی کوریج کی۔

پی آر اے اسی کے اعتراف میں وجود میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیلی ویژن کا پارلیمنٹ لائیو چینل بھی شروع ہوا ہے جس میں قائمہ کمیٹیوں سمیت پارلیمنٹ کی کارروائی شفاف انداز میں براہ راست ٹیلی کاسٹ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی اپوزیشن اراکین کو دینے اور پی اے سی کی چیئرمین شپ قائد حزب اختلاف کو دینے کا گزشتہ اسمبلی میں فیصلہ ہوا تھا‘ اس کو جاری رکھنے کی کوشش کریں گے‘ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔

انہوں نے اراکین سے کہا کہ وہ ایک دوسرے کا احترام کریں اور برداشت کو فروغ دیں۔ انتخابی مہم میں بھی اس چیز کا خیال رکھا جائے کیونکہ حقوق اللہ تو معاف ہو جاتے ہیں لیکن حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں موجود اقلیتی اراکین جو ہم سے بڑھ کر پاکستانی ہیں‘ انہوں نے ایوان کی کارروائی چلانے میں بھرپور تعاون کیا۔ خواتین اقلیتوں اور بچوں کے مسائل بھرپور انداز میں اس ایوان میں اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کا انضمام ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔ ہم پاکستانی پیدا ہوئے تھے اور پاکستانی ہی رخصت ہوں گے۔