بنوں میں ایک ارب روپے کی لاگت سے بیوٹفیکشن کاکام تیزی سے جاری ہے،عثمان علی خان

جمعرات مئی 14:49

بنوں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) این اے 35اورپی کی90، 2018کے عام انتحابات کے مستقبل کے آزاد حیثیت سے اُمیدوار سینئر صحافی محمد عثمان علی خان نے آئی جی پی کی پی کے صلاح الدین محسود ، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ کے پی کے ، چیف سیکرٹری کے پی کے ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، سیکرٹری پی این ڈی شاہ محمود خان ، ڈی آئی جی دار علی خٹک ، ایڈیشنل ایس پی بنوںشفیق خان وزیر ، ڈی پی او بنوں صادق بلوچ کی توجہ تھانہ کینٹ اور تھانہ پولیس کی غونڈہ گردی مبذول کرائی ہے کہ بنوں میں ایک ارب روپے کی لاگت سے بیوٹفیکشن کام تیزی سے جاری ہے لیکن پولیس کی کچھ کالی بھیٹریاں آئے روز گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسو سی ایشن بنوں کے جنرل سیکرٹری ملک عبد المالک ٹھکیدار ، ملک عاصم خان ٹھکیدار، ملک ابرار خان ٹھکیدرار کے سٹاف حضرات کو مقامی پولیس بغیر کسی وجہ سے گرفتارکر کے بھاری معاوضہ طلب کرتے ہے دوسری طرف ٹھکیدار حضرات دن رات کام کرکے ذہنی مریض بن چکے ہے ڈپٹی کمشنر بنوں محمد علی اصغر کو چاہیے کہ وہ ٹھکیدار حضرات ، محکمہ سی &ڈبلیو کے افسران جو 24گھنٹے ڈیوٹی سرنجام دیتے ہے ان کے تکلیفات کا اخساسات کرتے ہوئے مکمل تخفظ فراہم کریں محمد عثمان علی خان نے دھمکی دی ہے کہ بنوں کے پولیس کو لگام دی جائے خوا مخواہ عزت دار لوگوں پر ہاتھ ڈالنا ور ٹھکیدار حضرات کو ذہنی پریشانی دینا اور ان کے سٹاف کو گرفتا رکرکے تنگ کیا جاتا ہے جو ہمیں کسی صورت میں براداشت نہیں انہوںنے بنوں کے موجوہ ٹھکیدار حضرات جس میں ملک عبد المالک ٹھکیدار ، ملک عاصم خان ٹھکیدار ، ملک ابرار خان ٹھکیدار ، ملک وقار خان مندیو ٹھکیدرا ر ، ملک تاج علی خان ٹھیکیدار ، ملک شاکر خان ٹھکیدار، ملک زیاد خان ٹھکیدرار ، ملک بنیامین خان ٹھکیدرار ، ملک تبریز خان ٹھکیدرار، ملک شعیب خان ٹھکیدرار ، ملک شاکر خان ٹھکیدار ، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایکسن انجینئر ہمراز خان ، ایس ڈی او انجینئر آمیر اللہ خان ، ایس ڈی او انجینئر عضنفر اللہ خان ، ایس ڈی او انجینئر جہانزیب خان کی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہے اور چیف سیکرٹری کے پی کے ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، سیکرٹری پی اینڈ ڈی شاہ محمود خان سے مطالبہ کیا ہے کہ آیسے ایماندار افسران جو 24گھنٹے ڈیوٹی سر انجام دیتے ہے ان کو ڈبل معاوضہ دیا جائے اور ایڈیشنل گرانٹ بھی دیا جائے انہوںنے مطالبہ کہ محلہ ریلوے روڈ ، محلہ بیل گودام ، محلہ میلاد پارک ، زنانہ ہسپتال ، جامن روڈ اور دیگر علاقوں کو بھی بیوٹفکیشن پراجیکٹس میں شامل کرکے از سر نوں تعمیر جائے اور ماضی میں ساڑھے تین کروڑ روپے کی لاگت سے ٹی ایم اے کی ذریعے جو تعمیراتی کام ہوا ہے ا ن کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا دیا جائے اور ان علاقوں میں درینز بنایا جائے اور ناجائز تجاوزات فوری طور پر ہٹائی جائے ۔