جمعیت علماء اسلام ایسے خاندان کے قبضے میں آیا ہے جس کے گھر میں مولانا تو دور حافظ بھی ابھی تک پیدا نہیں ہوا،عثمان علی خان

جمعرات مئی 14:49

بنوں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) 1990,1993,1997ء کے عام انتخابات میں اس وقت کے جمعیت علماء اسلام کے درویش انسان مولناٰ علی اکبر صاحب (مرحوم) این اے 26کے امیدوار تھے ، وہ 2بار بنوں کے غیور عوام نے اس لئے کامیاب کیا کہ وہ ایک عاجز اور پرہیزگار عالم فاضل تھے ،اور علماء کے استاد تھے۔اسی طرح جمعیت علماء اسلام کے مولناٰ نصیب علی شاہ(مرحوم) بھی ایک خود دار اور عوامی خدمات سے سرشار انسان تھے۔

اس لئے اس کو بھی کامیاب کیا گیا جبکہ ماضی میں مولناٰ صد ر شہید (مرحوم) کو کامیاب کیا گیا ، لیکن جب سے جمعیت علماء اسلام ایک خاندان کے قبضے میں آیا ہے جس کے گھر میں مولناٰ تو دور حافظ بھی ابھی تک پیدا نہیں ہوئے،سن 2002سے لیکر 2008تک ایم ایم اے اسلام کے نا م پر بنا تھااور خیبر پختون خواہ کے غیور عوام نے علماء کرام کے ساتھ دیکر ایم ایم اے کو صوبہ کے سطح پر کامیابی دلائی ، لیکن 2002سے لیکر 2008تک نہ اسلام کی خدمت کی گئی اور نہ علماء کرام کو وہ مراعات دی گئی جس کے وہ حقدار بنتے ہیں۔

(جاری ہے)

2018ء میں بننے والی ایم ایم اے اسلام کے لئے نہیں بلکہ اقتدار کے بھوکے اور اسلام آباد اور پشاور کے رنگینوں سے مزے لینے والے مفاد پرست ٹولے نے اتحاد کیا ہے، لیکن ان کا اتحاد جمعہ جمعہ آٹھ دن میں ان کا اتحاد کو شدید دھچکا لگا۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں فاٹا انضمام کا فیصلہ کرکے جمعیت علماء اسلام کو تنہا بنا دیا جبکہ دوسری طرف جماعت اسلامی نے فاٹا انضمام کی حمایت کرکے جمعیت علماء اسلام سے نفرت کا اظہار کیا۔

آج کی تحریر بنوں میں جمعیت حکماء اسلام ضلع بنوں کی کابینہ نے مستعفی ہوکر مولناٰ فضل الرحمان اور مولنا حاجی اکرم خان درانی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے تین صوبائی وزراء جس میں سابق صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان ، سابق صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ، سابقہ صوبائی وزیر حبیب الرحمان نے استعفے دیکر اپنا وعدہ نبھا دیا۔

لیکن وفاقی وزیر الحاج اکرم خان درانی،، وزیر مملکت سید عبدالغفور حیدری اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولناٰ فضل الرحمان اقتدار کے مزے لے رہے ہیں۔اب جبکہ فاٹا انضمام کا فیصلہ ہوچکا ہے لیکن وہ بدستور وفاقی وزراء کے عہدے سے چمٹے ہوئے ہے۔خیبر پختون خواہ کے غیور عوام بالخصوص بنوں کے عوام ، علماء کرام، تاجر بردرای کے عہدیدران اور سول سوسائیٹی کے عہدیدران اور ایم ایم اے کے عہدیدران اس بات کو نوٹ کرلیں کے جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی اسلام کی خدمت نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ اقتدار میں آکر غریب عوام کو پانچ سال تک تنہا چھوڑتے ہیں۔

جمعیت حکما ء اسلام کے ضلعی کابینہ کے عہدیدران نے مستعفی ہوکر جمعیت علماء اسلام کا بیحودہ چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب کردیا۔ قومی اخبارات کے آنے والے بڑے بڑے نیوز عوام کی خدمت کے لئے حاضر ہے۔