جسٹس (ر)ناصر المک کل نگراں وزیر اعظم کا حلف اٹھائیں گے

تقریب حلف برداری کل 11 بجے ایوان صدر میں منعقد ہوگی‘جس میں صدرممنون حسین نگران وزیراعظم سے حلف لیس گے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات مئی 14:17

جسٹس (ر)ناصر المک کل نگراں وزیر اعظم کا حلف اٹھائیں گے
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔31 مئی۔2018ء) جسٹس (ر)ناصر المک کل نگراں وزیر اعظم کا حلف اٹھائیں گے، صدرمملکت ممنون حسین ناصر الملک سے حلف لیں گے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں نگراں وزیراعظم کی تقریب حلف برداری کل 11 بجے ایوان صدر میں منعقد ہوگی ، جس میں جسٹس (ر)ناصر المک نگراں وزیر اعظم کا حلف اٹھائیں گے، صدرمملکت ممنون حسین ناصر الملک سے حلف لیں گے۔

ایوان صدر میں حلف برداری کی تقریب کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہے ، تقریب میں عسکری قیادت ،اعلیٰ شخصیات ،غیر ملکی سفیروں، گورنر اور دیگر کو مدعو کیا گیا ہے جبکہ وزیر اعظم ،چیئرمین سینٹ وڈپٹی چیرمین کو بھی دعوت نامے جاری کئے گئے ہیں۔ 31 مئی کو 2013 کو برسراقتدار آنےوالی حکومت پانچ سالہ مدت پوری کر کے31 مئی کو رخصت ہو رہی ہے، یکم جون سے سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک آئندہ دو ماہ تک رہنے والی نگران حکومت کے وزیر اعظم ہوں گے، جس کا کام ملک میں صاف شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔

(جاری ہے)

31مئی کو مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کے پانچ سال مکمل ہوگئے،پانچ سالہ مدت پوری کرنےوالی یہ دوسری جمہوری حکومت ہے، اس سے قبل مسلم لیگ (ق) کی حکومت نے مشرف کے دور میں 2002ءسے 2008ءاور پھر پاکستان پیپلز پارٹی 2008ءسے 2013ءتک برسراقتدار رہیں۔مئی 2013ءمیں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ نون وفاق میں برسر اقتدار آئی تو لوڈشیڈنگ،، دہشت گردی کے خاتمے اور معیشت کی بحالی کے چیلنجز کا اسے سامنا تھا۔

نون لیگ حکومت کے پانچ سالہ دور میں 2 وزرائے اعظم برسراقتدار رہے۔۔میاں نواز شریف 28 جولائی 2018 کو عدالتی حکم پر نا اہل ہوئے تو شاہد خاقان عباسی کابطور وزیر اعظم انتخاب کیاگیا۔آئینی تقاضہ پورے کرتے ہوئے وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے سابق چیف جسٹس پاکستان ناصر الملک کو ساتویں نگراں حکومت کا وزیر اعظم نامزد کیا، وہ یکم جون کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

نگران وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کا ایک ہی اہم ٹاسک صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے، 25 جولائی کو ملک میں عام انتخابات کے بعد نگران حکومت آنے والی منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کر دے گی۔واضح رہے کہ ناصر الملک سپریم کورٹ کے 22ویں چیف جسٹس رہے، وہ 2013 سے 2014 تک قائم مقام چیف الیکشن کمشنر بھی رہے جبکہ 1993 سے 1994 تک وہ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت کے ایڈوکیٹ جنرل کے عہدے پر فائز رہے جہاں انہوں نے صوبائی حکومت کے قانونی معاملات میں مشاورت کے فرائض انجام دیے۔