ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال میں بچوں کے ڈاکٹرز کی ہٹ دھرمی کے باعث پانچ ماہ کا بچہ تڑپ تڑپ جاں بحق

جمعرات مئی 14:55

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال ایبٹ آباد میں بچوں کے ڈاکٹرز کی ہٹ دھرمی کے باعث پانچ ماہ کا بچہ تڑپ تڑپ جاں بحق ہو گیا، امیر معاویہ ولد عبدالوہاب سکنہ ہری پور کو نمونیا کی شکایت پر ہسپتال پہنچا دیا گیا، تین روز رہنے کے بعد بغیر آکسیجن کے ایوب میڈیکل کمپلیکس ریفر کرنے کی کوشش سے بچہ کی موت واقع ہوئی۔

ڈاکٹر کی بے رحمانہ توجہ کی شکایت ایم ایس اور ڈی ایم ایس کو لگانے سے بھی والدین کو کوئی شنوائی نہیں مل سکی، ڈی ایم ایس ڈاکٹر اور لیڈی ڈاکٹرز پر گرفت رکھنے میں ہسپتال انتظامیہ کامیاب نہیں ہو سکی۔ دہری کے رہائشی شخص نے اپنے بیٹے کو طبیعت خرابی پر ہسپتال پہنچایا جہاں تین روز داخل رہنے کے بعد ڈاکٹرز کی عدم دلچسپی کے باعث طبیعت سنبھل نہ سکی۔

(جاری ہے)

والدین کا کہنا تھا کہ ہم مسلسل ڈاکٹرز کا رویہ انتہائی سرد تھا، سختی سے بات کر کے بدتمیزی کرتے تھے۔ بچوں کی وارڈز میں بچہ داخل ہونے کے باوجود تڑپتا رہا اور سنگدل مسیحائوں نے کوئی خبر نہ لی جس کی شکایت ایم ایس کو کی لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔ دریں اثناء آکسیجن کی ضرورت کے باوجود بچہ کو ایوب میڈیکل کمپلیکس منتقل کرنے کے دوران بچہ کی موت واقع ہوئی جس پر والدین نے ڈاکٹرز کے خلاف سخت احتجاج کیا اور سیکرٹری صحت اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔