نیم کا درخت زمینی مٹی کی صلاحیت بڑھانے کا اہم ذریعہ ہے، ماہرین زراعت

جمعرات مئی 14:55

فیصل آباد۔31 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) ماہرین زراعت نے کاشتکاروں کو نیم کی زیادہ سے زیادہ کاشت کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نیم کا کرشماتی درخت عطیہ خداوندی ، کئی جراثیموں کیخلاف ڈھال ، زمینی مٹی کی صلاحیت بڑھانے ، پانی کے ضیاع کو روکنے کا اہم ذریعہ ہے جس کی کاشت سے بے پناہ فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ نیم کا درخت زمینی مٹی کی صلاحیت بڑھاتا ہے اور پانی کے ضیاع و مٹی کے کٹائو کوبھی روکتا ہے، نیم کے درخت کا ہر حصہ بیج ، پھل ، تیل،، چھال ، جڑ بطور دافع عفونت اور دافع جراثیم کے طور پر استعمال ہوتا ہے ، نیم کے درخت سے کشید کردہ اجزاء بول ، دست، پیچش،کھانسی، جلدی امراض ، بگڑے ہوئے زخم ، اعصابی تنائو، انواع واقسام کی سوزشوں سمیت بہت سارے امراض میں بے حد مفید ہے،نیم کے پتوں سے کشید کردہ اجزاء ملیریا کے علاج میں نہایت سود مند پائے گئے ہیں، یہ خون میں کولیسٹرول کی مقدار کم کر کے ، دل کی شریانوںکی تنگی جو دل کے دورہ کا باعث بنتی ہے کو دور کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے بتایا کہ اگر نیم کے پتوں کی لئی شہد کے ساتھ استعمال کی جائے تو خارش ، داغ ، چنبل اور دیگر جلدی امراض سے شفا حاصل ہوتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ نیم کا درخت انتہائی کم پانی حاصل کر کے تیزی سے پرورش پاتا ہے جس سے کئی فوائد کا حصول ممکن ہے۔

متعلقہ عنوان :