تعلیم کاروبار یا انڈسٹری نہیں بنیادی حق ہے-چیف جسٹس

نجی سکول مافیا نے ملی بھگت سے سرکاری سکولوں کابیڑہ غرق کر دیا ہے۔ریمارکس

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات مئی 14:48

تعلیم کاروبار یا انڈسٹری نہیں بنیادی حق ہے-چیف جسٹس
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔31 مئی۔2018ء) نجی سکولوں کی فیسوں سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تعلیم کاروبار یا انڈسٹری نہیں بنیادی حق ہے، نجی سکول مافیا نے ملی بھگت سے سرکاری سکولوں کابیڑہ غرق کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں سکولوں میں فیسوں میں اضافوں کے خلاف مختلف ہائیکورٹس کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی۔

سکولوں کے وکلاءنے استدعا کی کہ فیسوں کے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا جائے، چیف جسٹس نے استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ سنجیدہ معاملہ ہے اس پر از خود نوٹس لینے کے بارے سوچ رہے ہیں۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ بڑے لوگوں نے سکولز کھول کر والدین کا استحصال شروع کر رکھا ہے، اتنی تنخواہ نہیں جتنی والدین کو فیسیں ادا کرنا پڑتی ہیں، فیسیں دے دےکر والدین چیخ اٹھتے ہیں۔

(جاری ہے)

جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ تعلیم کاروبار یا صنعت نہیں بنیادی حق ہے،پرائیویٹ سکول مافیہ نے ملی بھگت کر کے سرکاری سکولوں کا بیڑا غرق کر دیا ہے، نجی سکولوں کی فرنچائزز کیسے بنیں سب عدالت کے علم میں ہے۔۔چیف جسٹس نے کہا بتایا جائے آگاہ کیا جائے بچوں سے ود ہولڈنگ ٹیکس کس حیثیت سے وصول کیا جارہا ہے، سب کچھ نجی سکولوں کے مفادات کے لیے کیا گیا ہے۔

عدالت نے اپیلوں کی سماعت کے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔قبل ازیں سندھ ہائی کورٹ نے صوبے بھر میں موجود پرائیوٹ سکولز کو موسمِ گرما کی تعطیلات کی فیس وصول نہ کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔واضح رہے کہ سندھ کے سرکاری و پرائیوٹ سکولوں میں جون جولائی میں ہر سال دو ماہ کی سالانہ تعطیلات سرکاری سطح پر دی جاتی ہیں، اس اقدام کا مقصد طلباءکو گرمی سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔پرائیوٹ سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے چھٹیوں سے قبل نیا سال شروع ہوجاتا ہے اور جن کے والدین دو ماہ کی ایڈوانس فیس نہیں دے پاتے انہیں انتظامیہ کی جانب سے نئی کلاسسز میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جاتی جس کے باعث اکثر اوقات والدین اور بچوں کو شدید ذہنی کرب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔