صاف و شفاف انتخابات ملک کی اہم ضرورت ہے ،ْ

ملکی مسائل کے حل کیلئے سول مذاکرات ناگزیر ہیں ،ْوزیر اعظم انتخابات میں ایک دن کی بھی تاخیر برداشت نہیں ہوگی ،ْنیب جو کچھ کررہی ہے اس پر سرکاری افسر کیلئے بہتر آپشن یہی ہے کہ وہ کوئی فیصلہ نہ کرے ،ْ2013 کے مقابلے میں ملک کی معیشت بہت بہتر ہے ،ْشاہد خاقان عباسی کا خطاب

جمعرات مئی 16:45

صاف و شفاف انتخابات ملک کی اہم ضرورت ہے ،ْ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ صاف و شفاف انتخابات ملک کی اہم ضرورت ہے ،ْ پاکستان کے مسائل کے حل کیلئے سول مذاکرات ضروری ہیں ،ْانتخابات میں ایک دن کی بھی تاخیر برداشت نہیں ہوگی ،ْنیب جو کچھ کررہی ہے اس پر سرکاری افسر کیلئے بہتر آپشن یہی ہے کہ وہ کوئی فیصلہ نہ کرے ،ْ2013 کے مقابلے میں ملک کی معیشت بہت بہتر ہے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے الوداعی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دوسری بار اسمبلی اپنی مدت پوری کررہی ہے، خورشید شاہ نے بطور اپوزیشن لیڈر مثالی خدمات انجام دی ہیں، انہوں نے ہمیشہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بات کی، تمام اپوزیشن کا مشکور ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایوان میں جب ضرورت پڑی اتفاق رائے نظر آیا، دو ماہ تک الیکشن ہوں گے لیکن تمام جماعتوں نے فاٹا کے معاملے کو سنجیدہ لیا، فاٹا انضمام کے معاملے پر اتفاق رائے قائم ہوا، اتفاق رائے کی وجہ سے جمہوریت اور پارلیمنٹ مضبوط ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے کہاکہ جو حکومت مدت پوری کرتی ہے اس کی کارکردگی عوام کیسامنے ہوتی ہے، 2013 میں ملک امن وامان کی صورتحال خراب تھی لیکن آج سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال 2013کے مقابلیمیں بہت بہتر ہے، سول عسکری قیادت نے مل کر ملک میں امن قائم کیا، ہماری افواج نے ایسی جگہ پر دشمن کو ہرایا جہاں تمام دنیا کی افواج نہیں کرسکیں۔۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج کراچی میں صرف اسٹریٹ کرائم باقی ہیں، کراچی کے حالات آج ویسے ہی جیسے کسی بڑے شہر کے ہونے چاہئیں۔

وزیراعظم نے کہاکہ 2013 کے مقابلے میں ملک کی معیشت بہت بہتر ہے،آج کے حالات 5سال کے حالات سے بہت بہتر ہیں، جو معیشت اگلی حکومت کو دے کر جائیں گے وہ اس سے بہت بہتر ہوگی جو ہمیں ملی تھی، پاکستان میں معیشت کو مضبوط کرنے کی بہت صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں لوگ سرمایہ کاری کررہے ہیں، بیرونی سرمایہ کاری کی وجہ سے معیشت میں بہتری آئی، ملک کی معاشی پالیسیاں سیاسی پالیسیوں سے جڑی ہیں، ملک میں بجلی کا بحران تھا، آج اس پر قابو پالیاگیا ہے، آئندہ 15سالوں میں بھی پاکستان میں بجلی کی کمی نہیں ہوگی، ملک میں پہلی بار کوئلے کے منصوبے ہم لے کرآئے، گیس کے 114 نئی کنویں دریافت ہوئے ہیں، پاکستان میں آج ہر صارف کو اپنی ضرورت کے مطابق گیس مل رہی ہے، ایران پاک گیس پائپ لائن پابندیوں کا شکار ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی حرف نہیں آنے دیا، کشمیر کا مسئلہ ہم نیہر فورم پر اٹھایا، افغانستان کے مسئلے پر دنیا ہمارے مؤقف کی تائید کرتی ہے۔انہوںنے کہا کہ انتخابات میں ایک دن کی بھی تاخیر برداشت نہیں ہوگی، صاف و شفاف انتخابات ملک کی اہم ضرورت ہے، پاکستان کے مسائل کے حل کیلئے سول مذاکرات ضروری ہیں، مسائل کے حل کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، گیس اور بجلی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی نیشنل ڈائیلاگ سے حل کیاجائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ نیب جو کچھ کررہی ہے اس پر سرکاری افسر کیلئے بہتر آپشن یہی ہے کہ وہ کوئی فیصلہ نہ کرے، وقت اور حالات کے مطابق ،مشکل فیصلے کرناپڑتے ہیں۔۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ پانچ سال میں جمہوریت پر بہت سے حملے ہوئے، اخبار خبروں سے بھرے رہے کہ اسمبلی جارہی ہے، جمہوری عمل میں بہت سے کامے اور فل سٹاپ لگانے کی کوشش کی گئی۔