وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمنٹ میں خورشید شاہ کا کردار مثالی قرار دیدیا

پارلیمنٹ میں تقاریر کے دوران اپوزیشن لیڈر نے سختی بھی دکھائی ،ْ ہمیشہ جمہوری الفاظ کا استعمال کیا ،ْ وزیر اعظم کراچی کے حالات انتہائی کشیدہ تھے، ہم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا ،ْ حالات بہتر کیے ،ْسپیکر کے کر دار کی بھی تعریف سی پیک منصوبے پر تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں ،ْ توانائی کے منصوبے پاکستان کیلئے انقلاب کا باعث ہونگے ،ْ آئندہ انتخابات کے لیے میڈیا کی آزادی انتہائی ضروری ہے ،ْانتخابات میں ایک دن کی بھی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی ،ْ اسمبلی میں آخری خطاب

جمعرات مئی 16:45

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمنٹ میں خورشید شاہ کا کردار مثالی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کا کردار قابلِ تعریف ہے کیونکہ انہوں نے پارلیمنٹ کے 5 سالہ دور میں ہمیشہ جمہوریت کی بالادستی کی بات کی اور اپوزیشن کی مثالی قیادت کی۔۔قومی اسمبلی میں اپنا الوداعی خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تقاریر کے دوران اپوزیشن لیڈر نے سختی بھی دکھائی لیکن انہوں نے ہمیشہ جمہوری الفاظ کا استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے 5 سالہ دور میں جمہوریت کو خطرات بھی لاحق ہوئے، لیکن اپوزیشن کے مثبت کردار کی وجہ سے جمہوریت برقرار رہی اور ان خطرات کا سامنا کیا گیا۔۔کراچی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ کراچی کے حالات انتہائی کشیدہ تھے، تاہم وہاں پر موجود تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا اور وہاں پر حالات بہتر کیے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ اب کراچی میں صرف ویسے ہی حالات ہیں جیسے دنیا کے کسی بھی بڑے شہر کے ہوتے ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی تعریف کرتے ہوئے وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے ہمیشہ اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی، اور غیر جانبداری سے ایوان کے امور چلائے۔۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مدت پوری کرنے والی حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے ہوتی ہے، 2013 کے مقابلے میں آج سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت بھی بہتر ہوئی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پانی کی قلت سب سے بڑا مسئلہ ہے، جبکہ تمام صوبوں کے درمیاں پانی کے معاملے پر اتفاق ہوا ہے۔پاک چین اقتصاری راہداری ((سی پیک)) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس منصوبے پر تمام سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات کے باوجود ترقی کا سفر جاری رہا، ملک میں موٹرویز کا جال بچھایا گیا، توانائی منصوبے شروع کیے جو پاکستان کیلئے انقلاب کا باعث ہوں گے۔

وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقے ((فاٹا)) کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا انضمام کے معاملے پر اتفاقِ رائے قائم ہوا۔۔وزیراعظم نے کہا کہ آج ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پالیا گیا، اور ملک میں پہلی بار کوئلے کے منصوبے مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہی لے کر آئی ہے۔میڈیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آئندہ انتخابات کے لیے میڈیا کی آزادی انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس وقت میڈیا کے ہی ذریعے حکومت پر الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، اگر میڈیا آزاد ہوتا تو ان الزامات کا میڈیا کے ذریعے ہی جواب دیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر حکومت نے ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے جبکہ افغانستان کے مسئلے پر عالمی طاقتیں پاکستان کے موقف کی تائید کرتی ہیں۔۔وزیراعظم نے کہا کہ اگلا مرحلہ صاف شفاف انتخابات کا ہے، ان میں ایک دن کی بھی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔