پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کی ،ْ

دوسری بار جمہوری حکومت اور پارلیمان کی مدت کی تکمیل جمہوریت کی فتح ہے ،ْ خورشید شاہ سیاست کی جیت عوام کے قدموں تلے ہے ،ْ آج بھی ووٹ منشور یا پالیسی کے تحت نہیں برادریوں پر ملتا ہے، جب تک پاکستان میں تعلیم عام نہیں ہوگی تب تک اس حوالے سے شعور نہیں آئے گا، جمہوریت کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ،ْاسمبلی میں اظہار خیال فاٹا انضمام بل اور انتخابی اصلاحات بل موجودہ پارلیمنٹ کی اہم کامیابیاں اور کارنامہ ہے ،ْآفتاب شیر پائو ریاض حسین پیرزادہ کی سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو اپنے حلقہ انتخاب خیرپور ٹامیوالی سے انتخابات میں حصہ لینے کی دعوت خوشی کا مقام ہے کہ آج پانچ سالہ مدت پوری کرکے رخصت ہو رہے ہیں ،ْشیخ آفتاب احمد …ہم نے سپیکر کے تحمل‘ برداشت اور جمہوری رویے سے سیکھا ہے‘ شیریں مزاری

جمعرات مئی 16:50

1 اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) قومی ا سمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کی ،ْ دوسری بار جمہوری حکومت اور پارلیمان کی مدت کی تکمیل جمہوریت کی فتح ہے ،ْسیاست کی جیت عوام کے قدموں تلے ہے ،ْ آج بھی ووٹ منشور یا پالیسی کے تحت نہیں برادریوں پر ملتا ہے، جب تک پاکستان میں تعلیم عام نہیں ہوگی تب تک اس حوالے سے شعور نہیں آئے گا، جمہوریت کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ انہوں نے پوری کوشش کی کہ ایوان میں سیاست کو گالم گلوچ میں تبدیل نہ کروں تاہم اس دوران الزامات عائد کیے جاتے رہے کہ میں نے فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ آج تمام ارکانِ پارلیمنٹ کو علم ہے کہ اسمبلی کی مدت پوری ہورہی ہے، اور وزیراعظم کو بھی علم ہے کہ وہ آج وزیراعظم ہاؤس سے واپس چلے جائیں گے۔

اپنے خطاب میں خورشید شاہ نے پارلیمنٹ کی مثبت کوریج کرنے پر میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ گزشتہ سالوں میں ہمیں اگلے دن کا یقین نہیں ہوتا تھا کہ اسمبلی ہوگی یا نہیں‘ آج خوشی ہے کہ پارلیمنٹ کے ممبران کو علم ہے کہ وہ اپنی مدت پوری کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کو بھی علم ہے کہ انہیں رات بارہ بجے وزیراعظم ہائوس میں گارڈ آف آنر ملناجمہوریت کی فتح ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی بے نظیر بھٹو کی جمہوریت کے لئے قربانی کے صلے میں حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری پوری کوشش رہی کہ اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلوں، سیاسی ماحول کو گالم گلوچ میں تبدیل کرنے سے روکنے میں پوری کوشش کی ،ْ ایشوز کی سیاست کرنے کی کوشش کی۔ اس پر میڈیا‘ حکومت‘ اپوزیشن کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور برداشت کیا۔

میں نے بھرپور کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بیٹھے ارکان پاکستان کے عوام کا مینڈیٹ لے کر آئے، ہم نے کوشش کی کہ اس پارلیمنٹ کو مضبوط کریں۔ ذوالفقار علی بھٹو کا پیغام تھا کہ ہمیشہ عوام کی بہتری کے لئے کام کرنا‘ سیاست کی جیت عوام کے قدموں تلے ہے۔ بے نظیر بھٹو نے جمہوریت نہ آنے تک چپن سے نہ بیٹھنے کا عزم کیا اور اس پر قربان ہوگئیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمارے ملک میں جمہوریت کے لئے بہت سی باتیں اور پیش گوئیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ غیر یقینی کی باتیں آج مدت پوری ہونے پر بھی ہو رہی ہیں کہ انتخابات ہوں گے یا نہیں۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے اس بارے میں سوچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ووٹ منشور یا پالیسی کے تحت نہیں برادریوں پر ملتا ہے، جب تک پاکستان میں تعلیم عام نہیں ہوگی تب تک اس حوالے سے شعور نہیں آئے گا، جمہوریت کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ،ْ دو اسمبلیوں کا مدت پوری کرنا خوش آئند ہے۔

تعلیم کے ہتھیار سے ہی جمہوریت کو مضبوط اور مستحکم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر نے جتنے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اس پر آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ آپ نے اپوزیشن کو حکومت سے بڑھ کر وقت دیا۔ آپ کا نام تاریخ میں اہم حروف میں لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی قائد ایوان کے طور پر فعال رہے۔ انہوں نے کہا کہ دعا ہے پاکستان قائم رہے اور اس کا سایہ قائم رہے۔

صحیح حلقوں میں عوام کی نمائندگی ہوتی رہے۔ صاف شفاف انتخابات ہوں اور عوام کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔آ فتاب احمد خان شیرپائو نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ اس اسمبلی نے بڑے نشیب و فراز دیکھے ہیں لیکن سپیکر کے کردار ‘ تحمل‘ برداشت اور دور اندیشی نے اس اسمبلی کا وقار بلند کیا ہے، یہ ہمارے لئے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام بل اور انتخابی اصلاحات بل موجودہ پارلیمنٹ کی اہم کامیابیاں اور کارنامہ ہے۔

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے بھی ملک کی سلامتی اور قانون کی بالادستی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات وقت پر ہونے چاہئیں اور افہام و تفہیم اور شرافت کے دائرے میں انتخابی مہم چلانی چاہیے۔ نکتہ اعتراض پر یوسف تالپور نے ہائوس کو بہتر طریقے سے چلانے پر سپیکر کے کردار کو سراہا اور کہا کہ تحمل‘ برداشت اور بردباری سے اس ہائوس نے پانچ سال کی مدت مکمل کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل ایف آئی اے نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا کہ 2011ء میں وزیراعظم نے میرے حلقے کے لئے جو فنڈز دیئے تھے اس میں خورد برد ہوئی ہے، یہ پری پول رگنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2011ء میں جو سڑک بنی تھی کیا وہ اس حالت میں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز اراکین کے پاس نہیں بلکہ متعلقہ محکموں کے پاس ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ 2011ء میں بدترین سیلاب آیا تھا اور وزیراعظم نے دورہ بھی کیا تھا۔

الوداعی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے سپیکر سردار ایاز صادق کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں اپنے حلقے سے انتخابات میں حصہ لینے کی دعوت دی۔ ریاض پیرزادہ نے کہا کہ اس پارلیمان اور اس سے قبل کی پارلیمانوں سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا لیکن احتجاج کے حوالے سے پارلیمان میں اراکین کے طرز عمل میں جو تبدیلی آئی ہے وہ اچھی نہیں ہے۔

احتجاج یونین کونسل کی سطح پر آیا ہے۔ پارلیمان کو اعلیٰ اقدار کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کورم کی نشاندہی کرنا اچھی پارلیمانی روایت نہیں ہے کینکہ اجلاس میں موجود اراکین عوام کے نمائندے ہوتے ہیں۔ انہوں نے سپیکر کو اپنے حلقے خیرپور‘ حاصل پور سے الیکشن لڑنے کی دعوت دی اور کہا کہ آپ کی کارکردگی اچھی رہی ہے جس کا سب اعتراف کرتے ہیں۔

مختلف صوبوں کے لوگوں کو دوسرے صوبوں میں الیکشن لڑنا چاہیے اس سے پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہوگی۔ دعا ہے کہ ہمارے ادارے‘ سیاستدان‘ ججز اور میڈیا اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ سپیکر نے الیکشن لڑنے کی دعوت پر ریاض حسین پیرزادہ کا شکریہ ادا کیا۔پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ پارلیمان پانچ سال مکمل کر رہی ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے علاوہ سپیکر‘ ڈپٹی سپیکر اور عملے کا اہم کردار رہا ہے۔

تمام سیاسی جماعتوں کی دور اندیشی اور تدبر سے جمہوریت کا سفر آگے کی طرف چلا۔ 1990ء میں پہلی بار ایم این اے منتخب ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جمہوری قدریں مستحکم ہوئیں اور نفرتیں کم ہوئیں۔ میں سینٹ میں بھی جاتا رہا ہوں‘ وہاں پر سیاسی تقسیم کی صورتحال نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خورشید شاہ کے شکرگزار ہیں جنہوں نے اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کیں۔

ہمارے لئے آج خوشی کا مقام ہے کہ پانچ سالہ مدت کی تکمیل کے بعد ہم باعزت طریقے سے عوام کے پاس دوبارہ جارہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ مستقبل کے فیصلے وہ ہوں جو اس ملک کے لئے بہترہوں۔ ہمارا مطمع نظر ایک مضبوط‘ ترقی یافتہ اور جدید پاکستان ہے۔ افواج‘ میڈیا‘ اداروں نے ملک کے حالات کی بہتری کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ میڈیا نے ہمارا پیغام پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

تحریک انصاف کی چیف وہپ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ہم نے تنقید زیادہ کی‘ اپوزیشن کی لیکن آپ سے تحمل‘ برداشت اور جمہوری رویے سیکھے۔ اس پارلیمان میں کام کرنا میرے لئے ایک نیا تجربہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمان میں حکومتی ارکان کی عدم دلچسپی لائق افسوس امر تھا۔ ہماری جماعت کے اراکین نے ایک ٹیم کے طور پر اس پارلیمان میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

میں شیخ آفتاب کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے ہمیشہ ہمارے ساتھ تعاون کیا اور ہر وقت ہنس کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان کی کمیٹیوں کے کام کو مزید باضابطہ بنانے اور پارلیمنٹ کے احتساب کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سپیکر‘ عملہ‘ میڈیا اور دیگر تمام افراد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ویج بورڈ کے اراکین کا تقرر صحافیوں کی مرضی اور منشاء سے ہونا چاہیے