سپریم کورٹ آف پاکستان نے حمزہ شہباز ،سلمان شہباز کو فراہم کی جانیوالی سکیورٹی کی تفصیلات طلب کر لیں

چیف جسٹس ثاقب نثار نے استحقاق رکھنے والی شخصیات ،افسران کی سکیورٹی سے متعلق بھی مصدقہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا

جمعرات مئی 16:55

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے صاحبزادوں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی کی تفصیلات طلب کر لیں، عدالت نے استحقاق رکھنے والی شخصیات اور افسران کی سکیورٹی سے متعلق بھی مصدقہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں از خود بوٹس کی سماعت کی۔

عدالتی حکم پر ڈی آئی جی عبدالرب نے رپورٹ جمع کراتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد دو سو چھیالیس اعلی شخصیات سے سکیورٹی واپس لی گئی تاہم عدالتی حکم پر قائم کمیٹی کی سفارش پر ایک سو چودہ شخصیات کو سکیورٹی واپس کر دی گئی۔ چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کو حقائق کے مطابق مصدقہ رپورٹ کی فراہمی کا موقع دیتے ہوئے چوبیس گھنٹوں میں دوبارہ رپورٹ طلب کر لی۔

(جاری ہے)

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر رپورٹ میں حقائق چھپانے ظاہر ہو گئے تو آئی جی پنجاب اور ڈی آئی جی ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کوکتنی سکیورٹی دی گئی ہے۔ جس پر ڈی آئی جی نے بتایا کہ نوے کانسٹیبل حمزہ شہباز کی سکیورٹی پر مامور تھے جنہیں واپس بلالیا گیا ہے۔۔چیف جسٹس نے کہ میڈیا عدالت کو حقائق سے آگاہ کرے، عدالت خود بھی پتہ کرائے گی، اب بھی جی او آر میں حمزہ شہباز کے گھر کے باہر محافظین کے کپڑے لٹکے دکھائی دیتے ہیں لوگوں کی پرائیویسی ختم ہو کر رہ گئی ہے ۔۔عدالت نے مزید سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کر دی۔